تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 423

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۳ سورة النساء تقابل اضداد ہے۔نادان لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھے یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر رفع کے معنے مع جسم اٹھانا ہے تو اس کے مقابل کا لفظ کیا ہوا جیسا کہ رفع روحانی کے مقابل پرلعنت ہے۔(تحفہ گولڑو یہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۰۹) یہ خیال کہ قرآن شریف میں (حضرت مسیح) کی نسبت بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ آیا ہے اور بل دلالت کرتا ہے کہ وہ مع جسم آسمان پر اُٹھائے گئے۔یہ خیال نہایت ذلیل خیال اور بچوں کا ساخیال ہے۔اس قسم کا رفع تو بلغم کی نسبت بھی مذکور ہے یعنی لکھا ہے کہ ہم نے ارادہ کیا تھا کہ بلغم کا رفع کریں مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ظاہر ہے کہ مسیح کیلئے جو لفظ رفع میں استعمال کئے گئے وہی لفظ بلعم کی نسبت استعمال کئے گئے۔مگر کیا خدا کا ارادہ تھا کہ بلغم کو مع جسم آسمان پر پہنچا دے بلکہ صرف اُس کی رُوح کا رفع مراد تھا۔اے حضرات ! خدا سے خوف کرو۔رفع جسمانی تو یہودیوں کے الزام میں معرض بحث میں ہی نہیں تمام جھگڑا تو رفع روحانی کے متعلق ہے کیونکہ یہود نے حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر بموجب نص توریت کے یہ خیال کر لیا تھا کہ اب اس کا رفع روحانی نہیں ہوگا اور وہ نعوذ باللہ خدا کی طرف نہیں جائے گا بلکہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف جائے گا یہ ایک اصطلاحی لفظ ہے کہ جو شخص خدا کی طرف بلایا جاتا ہے اس کو مرفوع کہتے ہیں اور جو شیطان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اس کو ملعون کہتے ہیں سو یہی وہ یہودیوں کی غلطی تھی جس کا قرآن شریف نے بحیثیت حکم ہونے کے فیصلہ کیا اور فرمایا کہ مسیح صلیب پر قتل نہیں کیا گیا اور فعل صلیب پا یہ تکمیل کو نہیں پہنچا اس لئے مسیح رفع روحانی سے محروم نہیں ہوسکتا۔وَأَثْبَتَ بِتُبُوتٍ بَيْن واضح أَنَّ اللہ تعالیٰ نے ایک بین اور واضح ثبوت کے ذریعہ سے عيسى ما صُلب۔وَمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ ثابت کردیا کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب پر نہیں مارا گیا اور نہ وہ وَمَا كَانَ رَفْعُهُ أَمْرًا جَدِيْدًا مَّخصُوصًا آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور نہ آپ کا رفع کوئی نئی بات بِهِ۔بَلْ كَانَ رَفَعَ الرُّوحِ فَقَط كَمِثْلِ رَفْعِ تھی جو آپ کے ساتھ مخصوص تھی بلکہ یہ تو آپ کے بھائیوں إِخْوَانِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَمَّا ذِكرُ رَفْعِه یعنی دوسرے انبیاء کی طرح صرف روحانی رفع تھا اور یہ جو بِالْخُصُوصِيَّةِ فِي الْقُرْآنِ، فَكَانَ لِذَبِ مَا قرآن کریم میں آپ کے رفع کو خصوصیت سے ذکر کیا گیا زَعَمَ الْيَهُودُ وَأَهْلُ الصُّلْبَانِ فَإِنَّهُمْ ہے وہ تو محض یہودیوں اور صلیب پرستوں کے خیالات کا ظَنُّوا أَنَّه صُلب ولعن حُكْمِ التَّوْرَاة رد تھا۔کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ آپ کو صلیب دیا گیا اور (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۰۱، ۱۰۲)