تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 410

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۰ سورة النساء امر نا معقول ہے کہ یسوع نے صلیب کو اپنے لئے پسند کیا اور خودکشی کو روا رکھا ایسا ہی یہ بھی نا معقول ہے کہ وہ اب تک ایک عمدہ زمانہ اپنی زندگی کا محض بریکاری سے گزار رہا ہے حالانکہ اس کو چاہئے تھا کہ اپنے اس وقت عزیز کو اپنی قوم کی ہمدردی میں خرچ کرتا نہ یہ کہ ایسی بیہودہ حرکتیں کہ دوسروں کے لئے خود کشی کرے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر جا بیٹھے۔پس ایک عقلمند بجز اس کے کیا کرے کہ ان قصوں کو جھوٹے قرار دے۔سچائی ایک ایسی چیز ہے کہ وہ صرف واقعات سے ہی ثابت نہیں ہوتی بلکہ دلائل عقلیہ بھی اس پر شہادت دیتے ہیں۔لیکن جو جھوٹ ہے نہ اس کے لئے واقعات صحیحہ ثابت شدہ ملتے ہیں اور نہ عقلی دلائل اس پر قائم ہو سکتے ہیں۔افسوس کہ عیسائی کسی بات پر بھی غور نہیں کرتے۔انہیں کے انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ تھو ما رسول جس کا ذکر انجیلوں میں درج ہے ہندوستان میں آیا تھا اور میلا پور میں شہید ہوا اور یہ بھی اسی میں لکھا تھا کہ یسوع کا ایک بھائی بھی اس کے ساتھ تھا۔اب جائے غور ہے کہ ایک طرف تو عیسائی صاحبان قبول کرتے ہیں کہ اسی بلادشام سے ہندوستان میں انہیں دنوں میں ایک شاہزادہ نبی آیا تھا جو آخر سری نگر کشمیر میں فوت ہوا اور پھر انہی ایام میں تھو ما حواری اور ایک یسوع کا بھائی بھی ہندوستان میں آیا تھا اور پھر دوسری طرف اس بات کو نہیں مانتے کہ وہ جو شاہزادہ نبی کہلاتا تھا اور بیان کرتا تھا کہ میرے پر انجیل نازل ہوئی ہے وہی یسوع مسیح ہے یہ واقعات بہت ہی صاف تھے اور ان کا نتیجہ بھی بہت ہی صاف تھا مگر ہائے افسوس کہ پادری صاحبوں نے تاریکی سے پیار کیا اور نور سے دشمنی۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۲ نمبر ۹ صفحه ۳۳۱ تا ۳۴۲) حضرت مسیح علیہ السلام وہ انسان تھے جو مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب پر چڑھے۔گوخدا کے رحم نے ان کو بچا لیا اور مرہم عیسی نے ان کے زخموں کو اچھا کر کے آخر کشمیر جنت نظیر میں ان کو پہنچا دیا۔سو انہوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح اس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عناں گھوڑے پر چڑھتا ہے۔سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچا لیا اور ان کی تمام رات کی دعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے ان کو صلیب اور صلیب کے نتیجوں سے نجات دی، ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا اور حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں (سے) ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے۔اور جیسا کہ شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک گواہی دے رہا ہے وہ ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے آخر کشمیر میں گئے اور کو سلیمان پر ایک مدت تک