تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 409
۴۰۹ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء حالت میں قبر میں داخل ہوا تو اس کے اس واقع کو یونس کے واقع سے کیا مشابہت ہوئی۔پھر یہ کہ انہیں انجیلوں میں لکھا ہے کہ وہ قبر سے زندہ نکلا اور ابھی زخم اس کے اچھے نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنے حواریوں کو ملا اور منع کیا کہ میرا حال کسی سے مت کہو اور ان کے ساتھ اپنے وطن کی طرف چلا گیا اور ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا اور پھر طب کی کتابوں سے متواتر طور پر ثابت ہوا ہے کہ یسوع کے زخموں کے لئے مرہم عیسی بنائی گئی تھی جس کے استعمال سے اس کے زخم اچھے ہوئے اور چونکہ وہ یہود کے دوبارہ حملے سے ڈرتا تھا اس لئے وہ اس ملک سے نکل گیا اور یہ رائے کچھ ہماری خاص رائے نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے محقق پادریوں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے جیسا کہ جرمن کے پچاس پادریوں کی رائے ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔اور کئی پورانی تحریریں اور بھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یسوع واقعہ صلیب کے بعد مدت تک مختلف ملکوں میں سیاحت کرتا رہا یہاں تک کہ اس کا نام نہبی سیاح ہو گیا۔اور ان باتوں کو مسلمانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح نبوت پانے کے بعد ایک مدت تک مختلف بلاد میں سیاحت کرتا رہا ہے۔پس ان تمام باتوں کو ایک ہی جگہ جمع کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یسوع ہر گز آسمان پر نہیں چڑھا اور جیسا کہ یہ تمام واقعات ایسے قریب قیاس ہیں کہ بڑی سرعت سے عقل ان کو قبول کرتی ہے۔ایسا ہی آسمان پر چڑھنا ایسا بعید از قیاس ہے کہ عقل اس کو فی الفور رڈ کرتی ہے اور دھکے دیتی ہے۔پس کیا وجہ کہ جو واقعات ثابت شدہ اور قریب قیاس ہیں ان کو تو قبول نہ کیا جائے اور جو خیالات ثابت نہیں ہو سکے اور نہ وہ قریب قیاس ہیں ان کو قبول کیا جائے ؟۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ اگر ان واقعات اور دلائل میں سے جو ہم نے پیش کئے ہیں ایک بھی پیش نہ کیا جاتا تب بھی عقل سلیم کا یہی فتویٰ تھا کہ یسوع ابن مریم آسمان پر ہر گز نہیں گیا۔وہ ہمیشہ انسانوں کی طرح کمزوریاں دکھلاتا رہا اور بسا اوقات اس نے ماریں کھائیں اور جب شیطان نے اسے کہا کہ اوپر سے اپنے تئیں نیچے گرا دے تو وہ اپنے تئیں نیچے نہ گرا سکا۔اور کوئی امر اس میں ایسا نہ تھا کہ جو انسان سے بڑھ کر شمار کیا جائے بلکہ بعض نبیوں نے اس سے بڑھ کر معجزات دکھلائے پھر یہ امر بغیر عقلی دلائل اور یقینی براہین کے کیوں کر مان لیا جائے کہ وہ در حقیقت آسمان پر چڑھ گیا تھا اور اب تک زندہ موجود ہے۔اور اگر آسمان پر چڑھنا ممکن بھی ہو تب بھی اس کے لئے ناجائز بلکہ ایک جرم کا ارتکاب تھا کیونکہ ابھی وہ اپنے فرض تبلیغ کو تمام نہیں کر چکا تھا اور یہود کے اور بہت سے فرقے ہنوز اور اور ملکوں میں ایسے تھے جنہوں نے مسیح کا نام بھی نہیں سنا تھا جن کو پیغام پہنچا نا باقی تھا اور آسمان پر تو یہود کی کوئی قوم آباد نہیں تھی تا یہ کہا جائے کہ آسمان پر بھی ان کا جانا ضروری تھا۔پس جیسے کہ یہ