تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 396

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ سورة النساء ثابت ہے جو ہر ایک انسان کے لیے ضروری ہے۔پس اس صورت میں جس امر کو یہودیوں نے اپنے خیال میں حضرت عیسی کے رفع الی اللہ کے لیے مانع ٹھہرایا تھا یعنی قتل اور صلیب وہ مانع باطل ہوا اور خدا نے اپنے وعدہ کے موافق ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۷۸،۳۷۷) علامہ امام زمخشری نے زیر آیت إلى مُتَوَفِّيكَ يہ لکھا ہے کہ إِلى مُبِيْتُكَ خَلْفَ أَنْفِك یعنی اے عیسی میں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا ان معنوں کے کرنے میں علامہ موصوف نے صرف لفظ توفی کی اصل وضع استعمال پر نظر نہیں رکھی بلکہ مقابل پر اس آیت کو دیکھ کر کہ مَا قَتَلُوهُ يَقِينا اور اس آیت کو دیکھ کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوه اس بات پر قرینہ قویہ پایا کہ اس جگہ لفظ مُتوفیک کا استعمال اپنی اصل وضع پر ضروری اور واجب ہے یعنی اس جگہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی میں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا اسی وجہ سے اس نے آیت إلي متوفيك كى يہ تفسیر کی که إلى مُميتك عنف أنفك یعنی میں تجھے طبعی موت سے ماروں گا پس امام زمخشری کی نظر میں نہایت قابل تعریف ہے کہ انہوں نے لفظ توفی کے صرف اصل وضع استعمال پر حصر نہیں رکھا بلکہ بالمقابل قرآن شریف کی ان آیتوں پر نظر ڈال کر کہ عیسی قتل نہیں کیا گیا اور نہ صلیب دیا گیا اصل وضع لفظ کے مطابق مُتوفِّيكَ کی تفسیر کر دی۔اور ایسی تفسیر بجز ماہر فن علم لغت کے ہر ایک نہیں کر سکتا یا در ہے کہ علامہ امام زمخشری لسان العرب کا مسلم عالم ہے اور اس فن میں اس کے آگے تمام ما بعد آنے والوں کا سر تسلیم خم ہے اور کتب لغت کے لکھنے والے اس کے قول کو سند میں لاتے ہیں جیسا کہ صاحب تاج العروس بھی جابجا اس کے قول کی سند پیش کرتا ہے۔اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ جب کہ آیت مَا قَتَلُوهُ يَقينا اور آیت وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ صرف توفی کے لفظ کی توضیح کے لیے بیان فرمائی گئی ہے کوئی نیا مضمون نہیں ہے بلکہ صرف یہ تشریح مطلوب ہے کہ جیسا کہ لفظ مُتَوَفِّيكَ میں یہ وعدہ تھا کہ عیسی کو اس کی طبعی موت سے مارا جائے گا ایسا ہی وہ طبعی موت سے مر گیا نہ کسی نے قتل کیا اور نہ کسی نے صلیب دیا۔پس یہ خیال بھی جو یہود کے دل میں پیدا ہوا تھا جو عیسی نعوذ باللہ لعنتی ہے اور اس کا روحانی رفع نہیں ہوا ساتھ ہی باطل ہو گیا کیونکہ اس خیال کی تمام بنا صرف قتل اور صلیب پر تھی اور اسی سے یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی ملعون اور راندہ درگاہ الہی ہیں جن کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا۔پس چونکہ مُتَوَفِّيكَ کے لفظ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے یہ شہادت دی کہ عیسی اپنی طبعی موت سے مرا ہے اور پھر خدا نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ مُتَوَفِّيكَ کے لفظ کا جو اصل منشاء تھا یعنی طبعی موت سے