تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 395
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۵ سورة النساء یہودیوں اور اسلام کے عقیدہ کے موافق اس موت کو کہتے ہیں جو ایمانداری کی حالت میں ہو اور روح خدا تعالیٰ کی طرف جاوے اور قتل اور صلیب کے اعتقاد سے یہودیوں کا منشاء یہ تھا کہ مرنے کے وقت روح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں گئی۔پس یہودیوں کے دعوی قتل اور صلیب کا یہی جواب تھا جو خدا نے دیا اور دوسرے لفظوں میں ماحصل آیت کا یہ ہے کہ یہودی قتل اور صلیب کا عذر پیش کر کے کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف مرنے کے وقت رفع نہیں ہوا اور خدا تعالیٰ جواب میں کہتا ہے کہ بلکہ میسی کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف مرنے کے وقت رفع ہو گیا ہے۔پس تفسیر عبارت کی یہ ہے بک رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ عِنْدَ مَوْتِهِ چونکہ رفع الی اللہ موت کے وقت ہی ہوتا ہے بلکہ ایمان کی حالت میں جو موت ہو اس کا نام رفع الی اللہ ہے پس گویا یہودی یہ کہتے تھے کہ مَاتَ عِيسَى كَافِرًا غَيْرَ مَرْفُوعَ إِلَى اللهِ اور خدا تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے بل مَاتَ مُؤْمِنًا مَّرْفُوعًا الى الله - سوبل کا لفظ اس جگہ غیر محل نہیں بلکہ عین محاورہ زبان عرب کے مطابق ہے یہودیوں کی یہ غلطی تھی کہ وہ خیال کرتے تھے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام درحقیقت مصلوب ہو گئے ہیں اس لیے وہ ایک غلطی سے دوسری غلطی میں پڑ گئے کہ موت کے وقت ان کے رفع الی اللہ سے انکار کر دیا لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہرگز مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے اور موت کے وقت ان کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہوا ہے۔پس اس طرز کلام میں کوئی اشکال نہیں اور بل کا لفظ ہر گز ہرگز ان معنوں کی رو سے غیر محل پر نہیں بلکہ جس حالت میں باتفاق یہود و اہل اسلام رفع الی اللہ کہتے ہیں اس کو ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کی روح خدا تعالیٰ کی طرف جائے تو اس صورت میں اس مقام میں کسی دوسرے معنوں کی گنجائش ہی نہیں۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد صفحه ۳۴۵ تا۳۴۷) یادر ہے کہ قرآن شریف صاف لفظوں میں بلند آواز سے فرما رہا ہے کہ عیسی اپنی طبعی موت سے فوت ہو گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ تو اللہ تعالیٰ وعدہ کے طور پر یہ فرماتا ہے: یعیسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى اور دوسری آیت میں اس وعدہ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے : وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ پہلی آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی ! میں تجھے طبعی موت دوں گا یعنی قتل اور صلیب کے ذریعہ سے تو ہلاک نہیں کیا جائے گا اور میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔پس یہ آیت تو بطور ایک وعدہ کے تھی اور دوسری آیت ممدوحہ بالا میں اس وعدہ کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ترجمہ مع تشریح یہ ہے کہ یہود خود یقیناً اعتقاد نہیں رکھتے کہ انہوں نے عیسی کو قتل کیا ہے اور جب قتل ثابت نہیں تو پھر موت طبعی