تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 386

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۶ سورة النساء دو جَاءَ ذِكْرُ قَتْلِهِمْ فِي الْقُرْآنِ فَخُذ معنی ان کے قتل کا ذکر موجود نہیں۔پس تم اس نکتہ کو مجھ سے سمجھ لو۔اور تم هذِهِ النُّكْتَةَ وَكُنْ مِنَ الْمُصَدِّقِينَ تصدیق کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ۔( ترجمہ از مرتب ) حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۲۲، ۲۲۳) وو یادر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے مسئلہ کو مسلمان عیسائیوں سے زیادہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں اس کی موت کا بار بار ذکر ہے لیکن بعض نادانوں کو یہ دھو کہ لگا ہوا ہے کہ اس آیت قرآن شریف میں یعنی وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبَهَ لَهُمْ میں لفظ شُيْه سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی کی جگہ کسی اور کو سولی دیا گیا اور وہ خیال نہیں کرتے کہ ہر ایک شخص کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے پس اگر کوئی اور شخص حضرت عیسی کی جگہ صلیب دیا جاتا تو صلیب دینے کے وقت ضرور وہ شور مچا تا کہ میں تو عیسی نہیں ہوں اور کئی دلائل اور کئی امتیازی اسرار پیش کر کے ضرور اپنے تئیں بچا لیتا نہ یہ کہ بار بار ایسے الفاظ منہ پر لاتا جن سے اس کا عیسی ہونا ثابت ہوتا۔رہا لفظ شُبّه لَهُمْ سو اس کے وہ معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور نہ ان معنوں کی تائید میں قرآن اور احادیث نبویہ سے کچھ پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ موت کا وقوعہ یہودیوں پر مشتبہ کیا گیا وہ یہی سمجھ بیٹھے کہ ہم نے قتل کر دیا ہے حالانکہ مسیح قتل ہونے سے بچ گیا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اس آیت میں شبه لَهُمْ کے یہی معنے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے ہی دھو کہ میں مخالفین کو ڈال دیتا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شُبه لَهُمْ سے خدا نے کام لیا یعنی مخالفین کو اس دھو کہ میں ڈال دیا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار کے منہ پر عنکبوت نے اپنا جالا بنا ہوا ہے اور کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں پس کیوں کر ممکن ہے کہ اس میں آدمی داخل ہو سکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں جو قبر کی مانند تھی تین دن رہے جیسا کہ حضرت مسیح بھی اپنی شامی قبر میں جب غشی کی حالت میں داخل کیے گئے تین دن ہی رہے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کو یونس پر بزرگی مت دو یہ بھی اشارہ اس مماثلت کی طرف تھا کیونکہ غار میں داخل ہونا اور مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونا یہ دونوں واقعہ باہم ملتے ہیں پس نفی تفضیل اس وجہ سے ہے نہ کہ ہر ایک پہلو سے۔اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یونس سے بلکہ ہر ایک نبی سے افضل ہیں۔اب خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنتوں اور عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب مخالف اس کے