تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 380

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۰ سورة النساء - یہودیوں نے کہا کہ اگر تو اس مرد کو چھوڑ دیتا ہے تو تو قیصر کا خیر خواہ نہیں اور یہ کہا کہ یہ باغی ہے اور خود بادشاہ بننا چاہتا ہے دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۲۱ ۔ اور پلاطوس کی بیوی کی خواب اور بھی اس بات کی محرک ہوئی تھی کہ کسی طرح مسیح کو مصلوب ہونے سے بچایا جائے ورنہ ان کی اپنی تباہی ہے۔ مگر چونکہ یہودی ایک شریر قوم تھی اور پلاطوس پر قیصر کے حضور میں مخبری کرنے کو بھی طیار تھے اس لیے پلاطوس نے مسیح کے چھڑانے میں حکمت عملی سے کام لیا۔ اول تو مسیح کا مصلوب ہونا ایسے دن پر ڈال دیا کہ وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف چند گھنٹے دن سے باقی تھے اور بڑے سبت کی رات قریب تھی اور پلاطوس خوب جانتا تھا کہ یہودی اپنی شریعت کے حکموں کے موافق صرف شام کے وقت تک ہی مسیح کو صلیب پر رکھ سکتے ہیں اور پھر شام ہوتے ہی ان کا سبت ہے جس میں صلیب پر رکھنا روا نہیں ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مسیح شام سے پہلے صلیب پر سے اتارا گیا ۔ اور یہ قریب قیاس نہیں کہ دونوں چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے وہ زندہ رہے۔ مگر مسیح صرف دو گھنٹہ تک مر گیا بلکہ یہ صرف ایک بہانہ تھا جو مسیح کو ہڈیاں توڑنے سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا سمجھ دار آدمی کے لیے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ دونوں چور صلیب پر سے زندہ اتارے گئے اور ہمیشہ معمول تھا کہ صلیب پر سے لوگ زندہ اتارے جاتے تھے اور صرف اس حالت میں مرتے تھے کہ ہڈیاں توڑی جائیں اور یا بھوک اور پیاس کی حالت میں چند روز صلیب پر رہ کر جان نکلتی تھی مگر ان باتوں میں سے کوئی بات بھی مسیح کو پیش نہ آئی نہ وہ کئی دن صلیب پر بھوکا پیاسا رکھا گیا اور نہ اس کی ہڈیاں توڑی گئیں اور یہ کہہ کر کہ مسیح مر چکا ہے یہودیوں کو اس کی طرف سے غافل کر دیا گیا۔ مگر چوروں کی ہڈیاں توڑ کر اسی وقت ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ بات تو تب تھی کہ ان دونوں چوروں میں سے بھی کسی کی نسبت کہا جاتا کہ وہ مر چکا ہے اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں اور یوسف نام پلاطوس کا ایک معزز دوست تھا جو اس نواح کا رئیس تھا اور مسیح کے پوشیدہ شاگردوں میں داخل تھا وہ عین وقت پر پہنچ گیا۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی پلاطوس کے اشارہ سے بلایا گیا تھا مسیح کو ایک لاش قرار دے کر اس کے سپرد کر دیا گیا کیونکہ وہ ایک بڑا آدمی تھا اور یہودی اس کے ساتھ کچھ پر خاش نہیں کر سکتے تھے۔ جب وہ پہنچا تو مسیح کو جو نشی میں تھا ایک لاش قرار دے کر اس نے لیا اور اسی جگہ ایک وسیع مکان تھا جو اس زمانہ کی رسم پر قبر کے طور پر بنایا گیا تھا اور اس میں ایک کھڑ کی بھی تھی اور ایسے موقع پر تھا جو یہودیوں کے تعلق سے الگ تھا اسی جگہ پلاطوس کے اشارہ سے مسیح کو رکھا گیا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ حضرت موسیٰ کی وفات پر چودھویں صدی گزر رہی تھی اور اسرائیلی شریعت کے زندہ کرنے کے لیے