تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 379
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۹ سورة النساء اسی کتاب میں بیان کریں گے کہ حال میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں پائی گئی ہے وہ بھی اس قبر کی طرح کھڑکی دار ہے۔اور یہ ایک بڑے راز کی بات ہے جس پر توجہ کرنے سے محققین کے دل ایک عظیم الشان نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کوملی ہیں پلاطس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے اور جبکہ شام ہوئی اس لیے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا۔یوسف ارتیا جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا اور دلیری سے پلاطس پاس جا کے یسوع کی لاش مانگی اور پیلاطس نے متعجب ہو کر شبہ کیا کہ وہ یعنی مسیح ایسا جلد مر گیا۔دیکھو مرقس باب ۱۶ آیت ۴۲ سے ۴۴ تک۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی یسوع کے مرنے پر شبہ ہوا۔اور شبہ بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔پھر یہودیوں نے اس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں کیونکہ وہ دن طیاری کا تھا بلکہ بڑا ہی سبت تھا پلاطوس سے عرض کی کہ ان کی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں تب سپاہیوں نے آ کر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اس کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے توڑیں۔لیکن جب انہوں نے یسوع کی طرف آ کے دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پہلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکلا۔دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ سے آیت ۳۴ تک۔ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کسی مصلوب کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لیے یہ دستور تھا کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اس کو کئی دن صلیب پر رکھتے تھے اور پھر اس کی ہڈیاں توڑتے تھے لیکن مسیح کی ہڈیاں دانستہ نہیں توڑی گئیں۔اور وہ ضرور صلیب پر سے ان دو چوروں کی طرح زندہ اتارا گیا۔اسی وجہ سے پہلی چھیدنے سے خون بھی نکلا۔مردہ کا خون جم جاتا ہے اور اس جگہ یہ بھی صریح معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی طور پر یہ کچھ سازش کی بات تھی پلاطوس ایک خدا ترس اور نیک دل آدمی تھا۔کھلی کھلی رعایت سے قیصر سے ڈرتا تھا کیونکہ یہودی مسیح کو باغی ٹھہراتے تھے مگر وہ خوش قسمت تھا کہ اس نے مسیح کو دیکھا لیکن قیصر نے اس نعمت کو نہ پایا۔اس نے نہ صرف دیکھا بلکہ بہت رعایت کی اور اس کا ہرگز منشا نہ تھا کہ مسیح صلیب پاوے۔چنانچہ انجیلوں کے دیکھنے سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ پلا طوس نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ مسیح کو چھوڑ دے لیکن