تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 378

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ سورة النساء کی وجہ سے انجیلوں کے ان قصوں میں بہت کچھ تغیر ہو گیا ہے تاہم جس قدر الفاظ پائے جاتے ہیں ان سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اسی فانی اور معمولی جسم سے اپنے حواریوں کو ملا اور پیادہ پاجلیل کی طرف ایک لمبا سفر کیا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلائے اور رات ان کے پاس روٹی کھائی اور سویا اور آگے چل کر ہم ثابت کریں گے کہ اس نے اپنے زخموں کا ایک مرہم کے استعمال سے علاج کیا۔ اب یہ مقام ایک سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ایک جلالی اور ابدی جسم پانے کے بعد یعنی اس غیر فانی جسم کے بعد جو اس لائق تھا کہ کھانے پینے سے پاک ہو کر ہمیشہ خدائے تعالیٰ کے دائیں ہاتھ بیٹھے اور ہر ایک داغ اور درد اور نقصان سے منزہ ہو اور ازلی ابدی خدا کے جلال کا اپنے اندر رنگ رکھتا ہوا بھی اس میں یہ نقص باقی رہ گیا کہ اس پر صلیب اور کیلوں کے تازہ زخم موجود تھے جن سے خون بہتا تھا اور درد اور تکلیف ان کے ساتھ تھی جن کے واسطے ایک مرہم بھی طیار کی گئی تھی اور جلالی اور غیر فانی جسم کے بعد بھی جوابد تک سلامت اور بے عیب اور کامل اور غیر متغیر چاہیے تھا کئی قسم کے نقصانوں سے بھرا رہا اور خود مسیح نے حواریوں کو اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلائیں اور پھر اسی پر کفایت نہیں بلکہ اس فانی جسم کے لوازم میں سے بھوک اور پیاس کی درد بھی موجود تھی ورنہ اس لغو حرکت کی کیا ضرورت تھی کہ مسیح جلیل کے سفر میں کھانا کھاتا اور پانی پیتا اور آرام کرتا اور سوتا ۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس عالم میں جسم فانی کے لیے بھوک اور پیاس بھی ایک درد ہے جس کے حد سے زیادہ ہونے سے انسان مرسکتا ہے پس بلا شبہ یہ بات سچ ہے کہ صیح صلیب پر نہیں مرا اور نہ کوئی نیا جلالی جسم پایا بلکہ ایک غشی کی حالت ہوگئی تھی جو مرنے سے مشابہ تھی اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہوا کہ جس قبر میں وہ رکھا گیا وہ اس ملک کی قبروں کی طرح نہ تھی بلکہ ایک ہوا دار کوٹھہ تھا جس میں ایک کھڑ کی تھی اور اس زمانے میں یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ قبر کو ایک ہوادار اور کشادہ کوٹھہ کی طرح بناتے تھے اور اس میں ایک کھڑ کی رکھتے تھے اور ایسی قبریں پہلے سے موجود رہتی تھیں اور پھر وقت پر میت اس میں رکھی جاتی تھی چنانچہ یہ گواہی انجیلوں سے صاف طور پر ملتی ہے۔ انجیل لوقا میں یہ عبارت ہے۔ ” اور وے عورتیں اتوار کے دن بڑے تڑ کے یعنی کچھ اندھیرے سے ہی ان خوشبوؤں کو جو طیار کی تھیں لے کر قبر پر آئیں اور ان کے ساتھ کئی اور بھی عورتیں تھیں اور انہوں نے پتھر کو قبر پر سے ڈھال کا ہوا پایا (اس مقام میں ذرہ غور کرو) اور اندر جا کے خداوند یسوع کی لاش نہ پائی ۔ دیکھو لوقا باب ۲۴ آیت ۲۔ ۳۔اب اندر جانے کے لفظ کو ذرہ سوچو۔ ظاہر ہے کہ اسی قبر کے اندر انسان جا سکتا ہے کہ جو ایک کو ٹھے کی طرح ہو اور اس میں کھڑ کی ہو۔ اور ہم اپنے محل پر 66