تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 377
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۷ سورة النساء اس کی دنیا میں کوئی نظیر ہے؟ ہر گز نہیں۔ہر ایک نیک دل انسان کا پاک کانشنس جب پلاطوس کی بیوی کے خواب پر اطلاع پائے تو بیشک وہ اپنے اندر اس شہادت کو محسوس کرے گا کہ در حقیقت اس خواب کا منشاء یہی تھا کہ مسیح کے چھوڑانے کی ایک بنیاد ڈالی جائے یوں تو دنیا میں ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنے عقیدہ کے تعصب سے ایک کھلی کھلی سچائی کو رد کر دے اور قبول نہ کرے۔لیکن انصاف کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ پلاطوس کی بیوی کی خواب مسیح کے صلیب سے بچنے پر ایک بڑے وزن کی شہادت ہے۔اور سب سے اول درجہ کی انجیل یعنی متی نے اس شہادت کو قلمبند کیا ہے اگر چہ ایسی شہادتوں سے جو میں بڑے زور سے اس کتاب میں لکھوں گا مسیح کی خدائی اور مسئلہ کفارہ یک لخت باطل ہوتا ہے لیکن ایمانداری اور حق پسندی کا ہمیشہ یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم سچائی کے قبول کرنے میں قوم اور برادری اور عقائد رسمیہ کی کچھ پرواہ نہ کریں جب سے انسان پیدا ہوا ہے آج تک اس کی کو نہ اندیشیوں نے ہزاروں چیزوں کو خدا بنا ڈالا ہے یہاں تک کہ بلیوں اور سانپوں کو بھی پوجا گیا ہے لیکن پھر بھی عقلمند لوگ خدا داد توفیق سے اس قسم کے مشرکانہ عقیدوں سے نجات خداداد۔پاتے آئے ہیں۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہمیں مسیح ابن مریم کی صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر ملتی ہیں اس کا وہ سفر دور دراز ہے جو قبر سے نکل کر جلیل کی طرف اس نے کیا چنانچہ اتوار کی صبح کو پہلے وہ مریم مگر لینی کو ملا۔مریم نے فی الفور حواریوں کو خبر کی کہ مسیح تو جیتا ہے لیکن وہ یقین نہ لائے پھر وہ حواریوں میں سے دو کو جبکہ وہ دیہات کی طرف جاتے تھے دکھائی دیا آخر وہ گیارھوں کو جبکہ وہ کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور ان کی بے ایمانی اور سخت دلی پر ملامت کی۔دیکھو انجیل مرقس باب ۱۶ آیت ۹ سے آیت ۱۴ تک۔اور جب مسیح کے حواری سفر کرتے ہوئے اس بستی کی طرف جارہے تھے جس کا نام املوس ہے جو یروشلم سے پونے چارکوس کے فاصلہ پر ہے تب مسیح ان کو ملا۔اور جب وہ اس بستی کے نزدیک پہنچے تو مسیح نے آگے بڑھ کر چاہا کہ ان سے الگ ہو جائے تب انہوں نے اس کو جانے سے روک لیا کہ آج رات ہم اکٹھے رہیں گے اور اس نے ان کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی اور وہ سب مع مسیح کے املوس نام ایک گاؤں میں رات رہے۔دیکھو لوقا باب ۲۴ آیت ۱۳ سے ۳۱ تک۔اب ظاہر ہے کہ ایک جلالی جسم کے ساتھ جو موت کے بعد خیال کیا گیا ہے صحیح سے فانی جسم کے عادات صادر ہونا اور کھانا اور پینا اور سونا اور جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کرنا جو یروشلم سے قریبا ستر کوس کے فاصلے پر تھا بالکل غیر ممکن اور نا معقول بات ہے اور باوجود اس کے کہ خیالات کے میلان۔