تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 376
سورة النساء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کر دی کہ دن کے اخیر حصے میں صلیب دینے کی تجویز ہوئی اور وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف تھوڑا سا دن باقی تھا اور اگلے دن سبت اور یہودیوں کی عید فسح تھی اور یہودیوں کے لیے یہ حرام اور قابل سزا جرم تھا کہ کسی کو سبت یا۔سبت کی رات میں صلیب پر رہنے دیں اور مسلمانوں کی طرح یہودی بھی قمری حساب رکھتے تھے اور رات دن پر مقدم سمجھی جاتی تھی پس ایک طرف تو یہ تقریب تھی کہ جوز مینی اسباب سے پیدا ہوئی اور دوسری طرف آسانی اسباب خدا تعالی کی طرف سے یہ پیدا ہوئے کہ جب چھٹا گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی جس سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اور وہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔دیکھو مرقس باب ۶ آیت ۳۳۔یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا یعنی وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے۔اب یہودیوں کو اس شدت اندھیرے میں یہ فکر پڑی کہ مبادا سبت کی رات آ جائے اور وہ سبت کے مجرم ہو کر تاوان کے لائق ٹھہر میں اس لیے انہوں نے جلدی سے میسج کو اور اس کے ساتھ کے دو چوروں کو بھی صلیب پر سے اتارلیا۔اور اس کے ساتھ ایک اور آسمانی سبب یہ پیدا ہوا کہ جب پلاطوس کچہری کی مسند پر بیٹھا تھا اس کی جورو نے اسے کہلا بھیجا کہ تو اس راست باز سے کچھ کام نہ رکھ ( یعنی اس کے قتل کرنے کے لیے سعی نہ کر ) کیونکہ میں نے آج رات خواب میں اس کے سبب سے بہت تکلیف پائی دیکھو متی باب ۲۷ آیت ۱۹۔سو یہ فرشتہ جو خواب میں پلاطس کی بیوی کو دکھایا گیا۔اس سے ہم اور ہر ایک منصف یقینی طور پر یہ سمجھے گا کہ خدا کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ مسیح صلیب پر وفات پاوے جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک یہ کبھی نہ ہوا کہ جس شخص کے بچانے کے لیے خدائے تعالیٰ رویا میں کسی کو ترغیب دے کہ ایسا کرنا چاہیے تو وہ بات خطا جائے۔مثلاً انجیل متی میں لکھا ہے کہ خدا وند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرارہ کیونکہ ہیرو دوس اس لڑکے کو ڈھونڈے گا کہ مار ڈالئے دیکھو انجیل متی باب ۲ آیت ۱۳۔اب کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ یسوع کا مصر میں پہنچ کر مارا جانا ممکن تھا اسی طرح خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک تدبیر تھی کہ پلاطوس کی جورو کو مسیح کے لئے خواب آئی اور ممکن نہ تھا کہ یہ تدبیر خطا جاتی اور جس طرح مصر کے قصہ میں مسیح کے مارے جانے کا اندیشہ ایک ایسا خیال ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک مقرر شدہ وعدہ کے برخلاف ہے اسی طرح اس جگہ بھی یہ خلاف قیاس بات ہے کہ خدائے تعالیٰ کا فرشتہ پلا طوس کی جورو کو نظر آدے اور وہ اس ہدایت کی طرف اشارہ کرے کہ اگر مسیح صلیب پر فوت ہو گیا تو یہ تمہارے لیے اچھا نہ ہو گا تو پھر اس غرض سے فرشتہ کا ظاہر ہونا بے سود جاوے اور مسیح صلیب پر مارا جائے کیا