تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 370
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۰ سورة النساء یہودی صرف اسے صلیب دینا چاہتے ہیں کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کے رو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ قتل کیا جائے خدا کی لعنت اس پر پڑ جاتی ہے اور پھر خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوتا اور بعد اس کے یہ امر ممکن ہی نہیں ہوتا کہ خدا اس سے محبت کرے اور یا وہ خدا کی نظر میں ایمانداروں اور راست بازوں میں شمار کیا جائے۔لہذا یہودیوں کی یہ خواہش تھی کہ یسوع کو صلیب دے کر پھر توریت کے رو سے اس بات کا اعلان دے دیں کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو ہرگز مصلوب نہ ہو سکتا اور اس طرح پر مسیح کی جماعت کو متفرق کردیں یا جو لوگ اندر ہی اندر کچھ نیک ظن رکھتے تھے ان کی طبیعتوں کو خراب کر دیں اور خدانخواستہ اگر واقعہ صلیب وقوع میں آجاتا تو حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ ایک ایسا داغ ہوتا کہ کسی طرح ان کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی اور نہ وہ راستباز ٹھہر سکتے اس لیے خدا تعالی کی حمایت نے وہ تمام اسباب جمع کر دئیے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہونے سے بچ گئے۔ان اسباب میں سے پہلا سبب یہی تھا کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا اور اس سے ڈر کر پیلاطوس نے یہ تدبیر سوچی کہ یسوع جمعہ کے دن عصر کے وقت صلیب دیا جائے اس تدبیر میں پیلاطوس نے یہ سوچا تھا کہ غالباً اس قلیل مدت کی وجہ سے جو صرف جمعہ کے ایک دو گھنٹے ہیں یسوع کی جان بچ جائے گی کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ جمعہ ختم ہونے کے بعد مسیح صلیب پر رہ سکتا۔صلیب دینے کا یہ طریق تھا کہ صرف مجرم کو صلیب کے ساتھ جوڑ کر اس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور تین دن تک وہ اسی حالت میں دھوپ میں پڑا رہتا تھا اور آخر کئی اسباب جمع ہو کر یعنی درد اور دھوپ اور تین دن کا فاقہ اور پیاس مجرم مرجاتا تھا مگر جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے جو شخص جمعہ میں صلیب پر کھینچا جاتا تھا وہ اسی دن اتار لیا جاتا تھا کیونکہ سبت کے دن صلیب پر رکھنا سخت گناہ اور موجب تاوان اور سزا تھا سو یہ داؤ پیلاطوس کا چل گیا کہ یسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا اور نہ صرف یہی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے چند اور اسباب بھی ایسے پیدا کر دیئے جو پیلاطوس کے اختیار میں نہ تھے اور وہ یہ کہ عصر کے تنگ وقت میں تو یہودیوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور ساتھ ہی ایک سخت آندھی آئی جس نے دن کو رات کے مشابہ کر دیا۔اب یہودی ڈرے کہ شاید شام ہوگئی کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن یا سبت کی رات کسی کو صلیب پر رکھنے کی سخت ممانعت تھی اور یہودیوں کے مذہب کے رو سے دن سے پہلے جو رات آتی ہے وہ آنے والے دن میں شمار کی جاتی ہے اس لئے جمعہ کے بعد جو رات تھی وہ سبت کی رات تھی لہذا یہودی آندھی کے پھیلنے کے وقت میں اس بات سے بہت گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ سبت ا