تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 365
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء جائے اور خدا تعالیٰ اس کا دشمن ہو جائے اور شخص ملعون خدا تعالیٰ کی معرفت سے بکلی بے نصیب ہو جائے اور اندھا اور گمراہ ہو جائے اور ایک ذرہ خدا کی محبت اس کے دل میں نہ رہے۔اسی لیے لغت کے رو سے لعین شیطان کا نام ہے۔پس ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالکل اس تہمت سے پاک ہیں کہ نعوذ باللہ ان کو ملعون کہا جائے اور رفع الی اللہ سے ان کو بے نصیب سمجھا جائے لیکن عیسائیوں نے اپنی حماقت سے اور یہودیوں نے اپنی شرارت سے ان کو ملعون قرار دیا اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں لعنت کا لفظ رفع کے لفظ کی نقیض ہے پس اس سے یہ لازم آیا کہ وہ نعوذ باللہ موت کے بعد خدا کی طرف نہیں بلکہ جہنم کی طرف گئے کیونکہ لعنتی یعنی وہ شخص جس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہ ہوا وہ جہنم کی طرف جاتا ہے یہ متفق علیہ اہل اسلام اور یہود کا عقیدہ ہے اسی لیے نصاری کو یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ حضرت عیسی مرنے کے بعد تین دن تک جہنم میں رہے۔بہر حال ایک سچے نبی کی ان دونوں قوموں نے بڑی بے ادبی کی۔اس لیے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اس الزام سے بری کرے۔پس اوّل تو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فرمایا کہ مسیح ابن مریم در حقیقت سچا نبی اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے مقربوں میں سے تھا اور پھر یہود اور نصاریٰ کے اس وسوسہ کو بھی دور کیا کہ وہ مصلوب ہو کر لعنتی ہوا اور فرمایا وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَ لكِن شُيْه لَهُمْ اور یہ بھی فرما دیا کہ بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ۶۰۰ پس اس طرح پر وہ لعنت اور عدم رفع کی تہمت جو چھ سو برس سے یہود اور نصاری کی طرف سے ان پر وارد کی گئی تھی اس کو دور فر ما یا سو ان آیات کی شان نزول یہی ہے کہ اس وقت کے یہود اور نصاریٰ حضرت مسیح کو ملعون خیال کرتے تھے اور نہایت ضروری تھا کہ ان شریروں اور احمقوں کی غلطی ظاہر کر کے ان کے جھوٹے الزام سے حضرت مسیح کو بری کر دیا جائے۔پس اس ضرورت کے لیے قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور جبکہ مصلوب نہ ہوا تو یہ اعتراض سراسر غلط ظہرا کہ خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہوا بلکہ خدا تعالیٰ نے اور مقربوں کی طرح اس کو بھی رفع کی خلعت سے ممتاز کیا اور خدا تعالیٰ نے اس فیصلہ میں حضرت عیسی کے ملعون اور غیر مرفوع ہونے کے بارے میں عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کو جھوٹا ٹھہرایا۔اب اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کی بریت اور ان کا صادق اور غیر کا ذب ہونا جسمانی رفع پر موقوف نہ تھا اور جسمانی رفع کے نہ ہونے سے ان کا کا ذب اور ملعون ہونا لازم نہ آتا تھا کیونکہ اگر صادق