تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 21

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة ال عمران خدائے تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، جو بنیاد دعویٰ ہے اُس کا خلاصہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالت پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ظاہر ہونے کے متقاضی ( براہین احمدیہ ہر چہار صص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۴۵ تا ۷ ۶۴) قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُم b ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو لو اور میری راہ پر چلو تا خدا بھی تم سے پیار کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو بخشندہ اور غفور، رحیم ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۵) ان کو کہہ دو کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدائے تعالیٰ بھی تم سے محبت رکھے اور تمہیں اپنا محبوب بنا لیوے۔اب سوچنا چاہئے کہ جس وقت انسان ایک محبوب کی پیروی سے خود بھی محبوب بن گیا تو کیا اس محبوب کا مثیل ہی ہو گیا یا ابھی غیر مثیل رہا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۳۰) ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میرے پیچھے پیچھے چلنا اختیار کر و یعنی میرے طریق پر، جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم ما رو تب خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۵) دے گا۔ان كَمَالَاتِ النَّبِيِّينَ لَيْسَتْ نبیوں کے کمالات پروردگار عالم کے کمالات كَكَمَالَاتِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَإِنَّ اللهَ أَحَدٌ کی طرح نہیں ہوتے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات صَمَدٌ وَحِيْدٌ لَّا شَرِيكَ لَه في ذاته ولا فی میں اکیلا، بے نیاز اور یگانہ ہے اُس کی ذات اور صفات صِفَاتِهِ وَأَمَّا الْأَنْبِيَاءُ فَلَيْسُوا كَذلِك میں اس کا کوئی شریک نہیں لیکن نبی ایسے نہیں ہوتے بلکہ بَلْ جَعَلَ اللهُ لَهُمْ وَارِثِينَ مِنَ اللہ تعالیٰ ان کے سچے متبعین میں سے اُن کے وارث الْمُتّبِعِيْنَ الصَّادِقِينَ فَأُمَّتُهُمْ بناتا ہے۔پس اُن کی اُمت اُن کی وارث ہوتی ہے۔وہ ورَثَاؤُهُمْ يَجِدُونَ مَا وَجَدَ أَنْبِيَاؤُهُمْ سب کچھ پاتے ہیں جو اُن کے نبیوں کو ملا ہو بشرطیکہ وہ اُن کے إِنْ كَانُوا لَهُمْ مُتَّبِعِينَ وَ إِلى هَذَا أَشَارَ پورے پورے متبع بنیں۔اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے