تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 360
۳۶۰ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء میں بھی اعتراض کا محل نہیں کیونکہ کفار کے حملوں کی علت غائی اور اصل مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی کرنا یا دانت کا شہید کرنا نہ تھا بلکہ قتل کرنا مقصود بالذات تھا۔سو کفار کے اصل ارادے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے محفوظ رکھا۔اسی طرح جن لوگوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا تھا ان کی اس کاروائی کی علت غائی حضرت مسیح کا زخمی ہونا نہ تھا بلکہ ان کا اصل ارادہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی کے ذریعہ سے قتل کر دینا تھا سو خدا نے ان کو اس بد ارادہ سے محفوظ رکھا اور کچھ شک نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے پس قول ما صَلَبُوهُ ان پر صادق آیا۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ حاشیه ) مجھ سے پہلے یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت بھی یہی ارادہ کیا کہ ناحق مجرم ٹھہرا کر سولی دلا دیں۔مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنے اس مقبول کو بچالیا اس نے پیلاطوس کے دل میں ڈال دیا کہ یہ شخص بے گناہ ہے اور فرشتہ نے خواب میں اس کی بیوی کو ایک رعب ناک نظارہ میں ڈرایا کہ اس شخص کے مصلوب ہونے میں تمہاری تباہی ہے۔پس وہ ڈر گئے اور اس نے اپنے خاوند کو اس بات پر مستعد کیا کہ کسی حیلہ سے مسیح کو یہودیوں کے بدارادہ سے بچالے۔پس اگر چہ وہ بظاہر یہودیوں کے آنسو پونچھنے کے لیے صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ قدیم رسم کے موافق نہ تین دن صلیب پر رکھا گیا جو کسی کے مارنے کے لیے ضروری تھا اور نہ ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ یہ کہہ کر بچالیا گیا کہ اس کی تو جان نکل گئی اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا خدا کا مقبول اور نکل راست باز نبی جرائم پیشہ کی موت سے مرکز یعنی صلیب کے ذریعہ سے جان دے کر اس لعنت کا حصہ نہ لیوے جو روز ازل سے ان شریروں کے لیے مقرر ہے جن کے تمام علاقے خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور در حقیقت جیسا کہ لعنت کا مفہوم ہے وہ خدا کے دشمن اور خدا اُن کا دشمن ہو جاتا ہے پس کیوں کر وہ لعنت جس کا یہ نا پاک مفہوم ہے ایک برگزیدہ پر وارد ہو سکتی ہے؟ سو اس لیے حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے۔اور جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ کشمیر میں آ کر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔اور لوگ بہت تعظیم سے اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اس شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوز آسف کر کے مشہور ہے جس کے معنے ہیں کہ یسوع غم ناک۔اور جب پلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نظر آیا اور اس نے اس کو دھمکایا کہ اگر یسوع مارا گیا تو تمہاری تباہی ہوگی یہی اشارہ خدا تعالی کی طرف سے بچانے کے لیے تھا ایسا دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ اس طرح پر کسی راستباز کی حمایت کے لیے فرشتہ ظاہر ہوا ہو اور پھر رویا میں فرشتہ کا ظاہر ہونا عبث۔