تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 359
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہ مسیح مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔۳۵۹ سورة النساء (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹۰ تا ۲۹۹) تیسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ سورت نساء میں ہے وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينان بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ۖ وَ كَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا آپ اس میں بھی قبول کرتے ہیں کہ یہ آیت قطعیه الدلالۃ نہیں مگر باوجود اس کے آپ کے دل میں یہ خیال ہے کہ اس رفع سے رفع مع الجسد مراد ہے کیونکہ وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوں کے ضمیر کا مرجع بھی روح مع الجسد ہے۔لیکن حضرت آپ کی یہ سخت غلطی سے نفی قتل اور نفی مصلوبیت سے تو صرف یہ مدعا اللہ جل شانہ کا ہے کہ مسیح کو اللہ جل شانہ نے مصلوب ہونے سے بچالیا اور آیت بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اس وعدہ کے ایفا کی طرف اشارہ ہے جو دوسری آیت میں ہو چکا ہے اور اس آیت کے ٹھیک ٹھیک معنے سمجھنے کے لیے اس آیت کو بغور پڑھنا چاہیے جس میں رفع کا وعدہ ہوا تھا اور وہ آیت یہ ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى حضرت اس رَافِعُكَ اِلی میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا تھا یہ وہی وعدہ ہے جو آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں پورا کیا گیا۔اب آپ وعدہ کی آیت پر نظر ڈال کر دیکھئے کہ اس کے پہلے کون لفظ موجود ہیں تو فی الفور آپ کو نظر آ جائے گا کہ اس سے پہلے اِنِّی مُتَوَفِّيكَ ہے اب ان دونوں آیتوں کے ملانے سے جن میں سے ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفا و عدہ کی آیت ہے آپ پر کھل جائے گا کہ جس طرز سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہیے تھا یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسی میں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح اٹھائی گئی ہے کیونکہ موت کے بعد روح ہی اٹھائی جاتی ہے نہ کہ جسم خدا تعالی نے اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ میں تجھے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جولوگ موت کے ذریعہ سے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اسی قسم کے لفظ ان کے حق میں بولے جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالی کی طرف اٹھائے گئے یا خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر گئے۔(الحق مباحثہ و علی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۷، ۱۶۸) وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوہ یعنی عیسی نہ مصلوب ہوا نہ مقتول ہوا اس بیان سے یہ بات منافی نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر زخمی ہو گئے کیونکہ مصلوبیت سے مراد وہ امر ہے جو صلیب پر چڑھانے کی علت غائی ہے اور وہ قتل ہے اور کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے دشمنوں کے اس اصل مقصود سے ان کو محفوظ رکھا اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا ہے واللہ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸) یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا۔حالانکہ لوگوں نے طرح طرح کے دکھ دیئے وطن سے نکالا دانت شہید کیا انگل کو زخمی کیا اوکئی زخم تلوار کے پیشانی پر لگائے سو در حقیقت اس پیشگوئی