تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 357

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة النساء منشاء الہی کا اس خواب سے ہی نکلتا ہے اس پر خوب غور کرو۔بعد اس کے ایسا ہوا کہ پلا طوس نے آخری فیصلہ کے لیے اجلاس کیا اور نابکار مولویوں اور فقیہوں کو بہتیر سمجھایا کہ مسیح کے خون سے باز آ جاؤ مگر وہ باز نہ آئے بلکہ چیخ چیخ کر بولنے لگے کہ ضرور صلیب دیا جائے دین سے پھر گیا ہے تب پلاطوس نے پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے کہ دیکھو میں اس کے خون سے ہاتھ دھوتا ہوں۔تب سب یہودیوں اور فقیہوں اور مولویوں نے کہا کہ اس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر۔پھر بعد اس کے مسیح ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور جنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب اس نے دیکھا آخر صلیب دینے کے لیے طیار ہوئے یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت اور اتفاقایہ یہودیوں کی عید فسح کا بھی دن تھا اس لیے فرصت بہت کم تھی اور آگے سبت کا دن آنے والا تھا جس کی ابتدا غروب آفتاب سے ہی سمجھی جاتی تھی کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دن کے ساتھ شامل کر لیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ سبت میں کوئی لاش صلیب پر لٹکی نہ رہے۔تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آ گئی جس سے سخت اندھیرا ہو گیا یہودیوں کو یہ فکر پڑ گئی کہ اب اگر اندھیری میں ہی شام ہو گئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہو جائیں گے جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے سو انہوں نے اس فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتارلیا اور یا درکھنا چاہیے کہ یہ بالا تفاق مان لیا گیا ہے کہ وہ صلیب اس قسم کی نہیں تھی جیسا کہ آج کل کی پھانسی ہوتی ہے اور گلے میں رسہ ڈال کر ایک گھنٹہ میں کام تمام کیا جاتا ہے بلکہ اس قسم کا کوئی رسہ گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھوکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے اور اور پھر بعد اس کے ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب مر گیا مگر خدائے تعالیٰ کی قدرت سے مسیح کے ساتھ ایسا نہ ہوا عید فسح کی کم فرصتی اور عصر کا تھوڑا سا وقت اور آگے سبت کا خوف اور پھر آندھی کا آ جانا ایسے اسباب یک دفعہ پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا اور دونوں چور بھی اتارے گئے اور پھر ہڈیوں کے توڑنے کے وقت خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا یہ نمونہ دکھا یا کہ بعض سپاہی پلاطوس کے جن کو در پردہ خواب کا خطرناک انجام سمجھایا گیا تھا وہ اس وقت موجود تھے جن کا مدعا یہی تھا کہ کسی طرح یہ بلایچ کے سر پر سے مل جائے ایسا نہ ہو کہ مسیح کے قتل ہونے کی وجہ سے وہ خواب سچی ہو جائے جو