تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 355

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة النساء ہے۔ یقینوں میں داخل کیا جاتا ہے سو ان کا نبی کے زمانہ میں خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ کے لیے حجت ہو گئی اور ان کے ساختہ پر داختہ کا اثر ان کی آنے والی ذریتوں پر بھی پڑا کیونکہ سلف خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے جو اس بحث کو چھیڑا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا اس تمام بحث سے یہی غرض تھی کہ مسیح کے مصلوب ہونے سے دو مختلف فرقے یعنی یہود اور عیسائی دو مختلف نتیجے اپنی اپنی اغراض کی تائید میں نکالتے تھے یہودی کہتے تھے کہ مسیح مصلوب ہو گیا اور توریت کی رو سے مصلوب لعنتی ہوتا ہے یعنی قرب الہی سے مہجور اور رفع کی عزت سے بے نصیب رہتا ہے اور شان نبوت اس حالت ذلت سے برتر واعلیٰ ہے۔ اور عیسائیوں نے یہودیوں کی لعن وطعن سے گھبرا کر یہ جواب بنالیا تھا کہ مسیح کا مصلوب ہونا اس کے لیے مضر نہیں بلکہ یہ لعنت اس نے اس لیے اپنے ذمہ لے لی کہ تا گنہ گاروں کو لعنت سے چھڑاوے۔ سو خدائے تعالیٰ نے ایسا فیصلہ کیا کہ ان دونوں فریق کے بیانات مذکورہ بالا کو کالعدم کر دیا اور ظاہر فرما دیا کہ کسی کو ان دونوں گروہ میں سے مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین نہیں اور اگر ہے تو وہ سامنے آوے سو وہ بھاگ گئے اور کسی نے مولویوں کی دم بھی نہ مارا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا ایک معجزہ ہے جو اس زمانہ کے نادان مولویو نگاہ سے چھپا ہوا ہے اور مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت مذکورہ بالا میرے پر ظاہر کی گئی ہے اور اسی معلم حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے جو ابھی لکھا ہے فالحمد للہ علی ذلک۔ اور عقلی طور پر بھی ا پر بھی اگر دیکھا جائے تو اس بیان کی سچائی پر ہر ایک عقل سلیم گواہی دے گی کیونکہ خدائے تعالیٰ کا کلام لغو باتوں سے منزہ ہونا چاہیے اور ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر اس بحث میں یہ مقاصد عظمی درمیان نہ ہوں تو یہ سارا بیان ایسا لغو ہو گا جس کے تحت کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ جھگڑا کہ کوئی نبی پھانسی ملا یا اپنی طبعی موت سے مرا بالکل بے فائدہ جھگڑا ہے جس سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا ۔ سو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس پر جوش اور کروفر کے بیان میں کہ کسی یہودی یا عیسائی کو یقینی طور پر مسیح کی مصلوبیت پر ایمان نہیں کون سی بڑی غرض رکھتا ہے؟ اور کون سا بھارا مدعا اس کے زیر نظر ہے جس کے اثبات کے لیے اس نے دونوں فریق یہود اور نصاری کو خاموش اور لاجواب کر دیا ہے سو یہی مدعا ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے اس عاجز بندہ پر کہ جو مولویوں کی نظر میں کافر اور ملحد ہے اپنے خاص کشف کے ذریعہ