تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰ سورة ال عمران لیتا ہے تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ ہر یک خیر کہ جس کا انسان طالب ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ تو ہر یک چیز پر قادر ہے۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص ، روحانی خزائن جلدا، صفحه ۲۶۱ حاشیه (۱۱) وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ یعنی خدا جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ ، صفحه ۲۳۲) دیتا ہے۔ تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارِ فِي الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۔ ۲۸ جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بات کو بڑے پر زور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مد و جز رواقعہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے : تورج اليل في النَّهَارِ وَ تُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ یعنی اے خدا! کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدایت اور ہدایت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے۔ اور حقیقت اس مد و جزر مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامر اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور مجو بیت کی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں۔ یہ ظلمت کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلۃ القدر ہمیشہ آتی ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا دن آ پہنچا تھا کیونکہ اس وقت تمام دنیا پر ایسی کامل گمراہی کی تاریکی پھیل چکی تھی جس کی مانند کبھی نہیں پھیلی تھی اور نہ آئندہ کبھی پھیلے گی جب تک قیامت نہ آوے۔ غرض جب یہ ظلمت اپنے اس انتہائی نقطہ تک پہنچ جاتی ہے کہ جو اس کے لئے مقدر ہے تو عنایت الہیہ تنویر عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور کوئی صاحب نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اس کی طرف مستعد روحیں کھینچی چلی آتی ہے اور پاک فطرتیں خود بخود رو بحق ہوتی چلی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیرممکن ہے کہ بر وقت ظہور کسی صاحب نور کے صاحب فطرت سلیمہ کا اس کی طرف بارادت متوجہ نہ ہو۔ ان آیات میں جو