تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 351
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عذاب ہو۔ ۳۵۱ سورة النساء البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹۲) یعنی اگر تم شکریہ ادا کرو اور ایمان لاؤ تو خدا نے تمہیں عذاب کر کے کیا لینا ہے۔ یہ تمہارے بد اعمال ہی تم کو عذاب میں گراتے ہیں۔ خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ۔ البدر جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۲۱ مارچ ۱۹۰۷ صفحه (۴) الحکم جلدا انمبر ۹ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) یعنی خدا تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور خدا پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت اور سزا کے دن سے ڈرو۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۵۱) إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَ يَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ (۱۵۲) سَبِيلًا أُولَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَ اَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَ لَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولَئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أَجُورَهُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا وہ لوگ جو خدا اور رسول سے منکر ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ ڈال دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لائیں گے اور بعض پر نہیں یعنی صرف خدا کا ماننا یا صرف بعض رسولوں پر ایمان لانا کافی ہے یہ ضروری نہیں کہ خدا کے ساتھ رسول پر بھی ایمان لاویں یا سب نبیوں پر ایمان لاویں اور چاہتے ہیں کہ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بین بین مذہب اختیار کر لیں ۔ وہی پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے اور وہ لوگ جو خدا اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے یعنی یہ تفرقہ اختیار نہیں کرتے کہ صرف خدا پر ایمان لاویں مگر اس کے رسولوں پر ایمان نہ لاویں اور نہ یہ تفرقہ پسند کرتے ہیں کہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاویں اور بعض سے برگشتہ رہیں ان لوگوں کو خدا ان کا اجر دے گا۔ اب کہاں ہیں میاں عبد الحکیم خان مرتد جو میری اس تحریر سے مجھ سے برگشتہ ہو گیا۔ چاہیے کہ اب آنکھ کھول کر دیکھے کہ کس طرح خدا نے اپنی ذات پر ایمان لانا رسولوں پر ایمان لانے سے وابستہ کیا ہے اس میں راز یہ ہے کہ انسان میں توحید قبول کرنے کی استعداد اس آگ کی طرح رکھی گئی ہے جو پتھر میں مخفی ہوتی ہے