تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 350
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۰ سورة النساء لیکن جب تک دورنگی اور منافقت ہو۔تب تک انسان کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي چھپاتا ہے۔الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ - بدر جلد نمبر ۳۴ مورخه ۸ /نومبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۴) میں منافقوں کو پسند نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے۔اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ يقيناً يا درکھو منافق کا فر سے بھی بدتر ( ہے ) اس لیے کہ کافر میں شجاعت اور قوت فیصلہ تو ہوتی ہے وہ دلیری کے ساتھ اپنی مخالفت کا اظہا کر دیتا ہے مگر منافق میں شجاعت اور قوت فیصلہ نہیں ہوتی وہ الحکم جلد ۱۰ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۳) اللہ تعالی اس امت کو منافق نہیں بنانا چاہتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو نفاق سے ڈراتا ہے اور اس طریق زندگی کو بدترین حالت بیان فرماتا ہے۔اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کسی پکے مسلمان کی غیرت اور حمیت یہ کب گوارا کر سکتی ہے کہ اپنے معتقدات اور مذہبی مسلمہ پیارے عقائد کے خلاف سن سکے یا ان کی تو ہین ہوتے دیکھ سکے۔یا ایسے لوگوں سے جو اس کے بزرگوں کو جن کو وہ دین کا پیشوا یقین کرتا ہے برا کہنے والے یا گالیاں دینے والوں سے سچی محبت اور اتفاق رکھ سکے۔ہمارے نزدیک تو ایسا انسان جو با ایں ہمہ کسی سے محبت و مودت رکھتا ہے دنیا کا کتا اور منافق ہے کیونکہ ایک سچے مسلمان کی غیرت یہ چاہ سکتی ہی نہیں کہ وہ التحام جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۱) نفاق کرتا ہے۔مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُهُ وَأَمَنْتُمْ وَكَانَ اللهُ شَاكِرًا عَلِيمًا اگر تم ایمان بھی لاؤ اور شکر گزار بھی بنو کہ تمہاری نجات کے لیے خدا نے آپ ہی ذریعہ مقرر کر دیا تو پھر خدا کو کیا ضرورت جو تمہیں عذاب دے۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱) یعنی خدا تعالی تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار اور مومن بن جاؤ گے۔اس پیشگوئی میں ظاہر فرمایا کہ آنے والا عذاب شکر اور ایمان کے ساتھ دور ہو جائے گا۔یعنی خدا نے تم کو عذاب دے کر کیا کرنا ہے اگر تم دیندار ہو جاؤ۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۳ حاشیه ) الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۶) یہ تو اس کا فضل ہے کہ سوئے ہوؤں کو ایک تازیانہ سے جگار ہا ہے اور نہ اسے کیا پڑی ہے کہ کسی کو عذاب دیوے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَا بِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُم کہ اگر تم میری راہ اختیار کرو تو تم کو کیوں