تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 349
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۹ سورة النساء الْمُؤْمِنِينَ فَاللهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَ لَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (۱۴۲) لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا یعنی خدائے تعالیٰ ہرگز کافروں کو مومنوں پر راہ نہیں دے گا۔ سو دیکھو خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں مقابلہ کے وقت مومنوں کو فتح کی بشارت دے رکھی ہے اور خود ظاہر ہے کہ خدا تعالٰی مومن کا ہی حامی اور ناصر ہوتا ہے مفتری کا ہرگز ناصر اور حامی نہیں ہو سکتا۔ (آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۳۴) خدائے تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مومن بہر حال غالب رہے گا چنانچہ وہ خود فرماتا ہے لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ کا فر مومن پر راہ پاوے۔ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۶) لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ کافر مومنوں کو ملزم کرنے کے لیے راہ پاسکیں۔ اللہ مومنوں پر کافروں کو راہ نہیں دیتا۔ ( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه (۲۳) الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخه ۱۳۱ جولائی ۱۹۰۱ء صفحه (۳) اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے پاک بندوں کو ذلیل نہیں کرتا اور لَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سبیلا اس کا سچا وعدہ ہے ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا لا (۱۴۶) ذلت صرف اسی کا نام نہیں کہ برسرِ بازار کسی کے سر پر جوتے پڑیں بلکہ جو شخص مولوی اور متقی ہونے کا دعوی کرتا ہے اس کا منافقانہ چلن اگر ثابت ہو جائے تو اس سے بڑھ کر اس کی کوئی ذلت نہیں ۔ منافق سے ذلیل تر اور کوئی نہیں ہوتا إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ - اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۱۹) یعنی منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ڈالے جائیں گے اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ مَا زَنَا زَانِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَا سَرَقَ سَارِقٌ وَهُوَ مُؤْمِنٌ یعنی کوئی زانی زنا کی حالت میں اور کوئی چور چوری کی حالت میں مومن نہیں ہوتا ۔ پھر منافق نفاق کی حالت میں کیوں کر مومن ہو سکتا ہے۔ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۹) اگر مومن کو خاص امتیاز نہ بخشا جائے تو مومنوں کے واسطے جو وعدے ہیں وہ کیوں کر پورے ہوں گے،