تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 342
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة النساء بری کہلانے کے مستحق ہیں جب تک کہ ان پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔پس قرآن کے رو سے بری کے معنے ایسے وسیع ہیں کہ جب تک کسی پر کسی جرم کا ثبوت نہ ہو وہ بری کہلائے گا کیونکہ انسان کے لیے بری ہونا طبعی حالت ہے اور گناہ ایک عارضہ ہے جو پیچھے سے لاحق ہوتا ہے لہذا اس کے لیے ثبوت درکار ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۲۲ حاشیه ) ڈسچارج کا عربی میں ٹھیک ٹھیک ترجمہ بری ہے اور ایکٹ کا ترجمہ منزہ ہے۔عرب کے یہ دو مقولے ہیں کہ آنَا بَرِى مِنْ ذَلِكَ وَأَنَا مُبَر من ذلك- پہلے قول کے یہ معنے ہیں کہ میرے پر کوئی تہمت ثابت نہیں کی گئی اور دوسرے قول کے یہ معنے ہیں کہ میری صفائی ثابت کی گئی ہے اور قرآن شریف میں یہ دونوں محاورے موجود ہیں چنانچہ بری کا لفظ قرآن شریف میں بعینہ ڈسچارج کے معنوں پر بولا گیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ مَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِنَا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَ إِثْمًا مُبِينًا الجزء نمبر ۵ سورہ نساء۔یعنی جو شخص کوئی خطا یا کوئی گناہ کرے اور پھر کسی ایسے شخص پر وہ گناہ لگا دے جس پر وہ گناہ ثابت نہیں تو اس نے ایک کھلے کھلے بہتان اور گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر لیا اور مبرء کی مثال قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اولَيكَ مُبَرَّءُونَ مِنَا يَقُولُونَ۔یہ اس مقام کی آیت ہے کہ جہاں بے لوث اور بے گناہ ہونا ایک کا ایک وقت تک مشتبہ رہا پھر خدا نے اس کی طرف سے ڈیفنس پیش کر کے اس کی بریت کی۔اب آیت يَرم به بریا سے بہ بداہت ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے شخص کا نام بڑی رکھا ہے جس پر کوئی گناہ ثابت نہیں کیا گیا اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو انگریزی میں ڈسچارج کہتے ہیں۔لیکن اگر کوئی مکابرہ کی راہ سے یہ کہے کہ اس جگہ بری کے لفظ سے وہ شخص مراد ہے جو مجرم ثابت ہونے کے بعد اپنی صفائی کے گواہوں کے ذریعہ سے اپنی بریت ظاہر کرے تو ایسا خیال بدیہی طور پر باطل ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا بری کے لفظ سے یہی منشا ہے تو اس سے یہ خرابی پیدا ہوگی کہ اس آیت سے یہ فتوی ملے گا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص پر جس کا گناہ ثابت نہیں کسی گناہ کی تہمت لگانا کوئی جرم نہیں ہو گا گوہ مستور الحال شریفوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہی ہو اور صرف یہ کسر ہو کہ ابھی اس نے بے قصور ہونا عدالت میں حاضر ہو کر ثابت نہیں کیا۔حالانکہ ایسا سمجھنا صریح باطل ہے اور اس سے تمام تعلیم قرآن شریف کی زیروز بر ہو جاتی ہے کیونکہ اس صورت میں جائز ہوگا کہ جولوگ مثلاً ایسی مستور الحال عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جنہوں نے عدالت میں حاضر ہو کر اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ وہ ہر قسم کی بدکاری سے مذت العمر محفوظ رہے ہیں وہ کچھ گناہ نہیں کرتے اور ان کو روا ہے کہ