تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 341

۳۴۱ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء یعنی جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور اس تہمت کے ثابت کرنے کے لیے چار گواہ نہ لا سکیں تو ان کو اسی ڈرے مارو اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور یہ لوگ آپ ہی بدکار ہیں۔اس جگہ آنٹی محصنات کے لفظ کے وہی معنے ہیں جو آیت گذشتہ میں بری کے لفظ کے معنے ہیں اب اگر بموجب قول مولوی محمد حسین ایڈیٹر اشاعۃ السنتہ کے بری کے لفظ کا مصداق صرف وہ شخص ہو سکتا ہے کہ جس پر اول فرد قرار داد جرم لگائی جاوے اور پھر گواہوں کی شہادت سے اس کی صفائی ثابت ہو جائے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں یعنی اگر بری کے لفظ میں جو آیت ثُمَّ يَرُمِ په بریا میں ہے یہی منشا قرآن کا ہے تو کسی عورت پر مثلا زنا کی تہمت لگانا کوئی جرم نہ ہوگا بجز اس صورت کے کہ اس نے معتمد گواہوں کے ذریعہ سے عدالت میں ثابت کر دیا ہو کہ وہ زانیہ نہیں اور اس سے یہ لازم آئے گا کہ ہزار ہا مستور الحال عورتیں جن کی بد چلنی ثابت نہیں حتی کہ نبیوں کی عورتیں اور صحابہ کی عورتیں اور اہل بیت میں سے عورتیں تہمت لگانے والوں سے بجز اس صورت کے مخلصی نہ پاسکیں۔اور نہ بری کہلانے کی مستحق ٹھہر سکیں جب تک یہ عدالتوں میں حاضر ہو کر اپنی عفت کا ثبوت نہ دیں حالانکہ ایسی تمام عورتوں کی نسبت جن کی بد چلنی ثابت نہ ہو خدا تعالیٰ نے بار ثبوت الزام لگانے والوں پر رکھا ہے اور ان کو بری اور محصنات کے نام سے پکارا ہے جیسا کہ اس آیت ثُمَّ لَم يَأْتُوا بِأَربَعَةِ شُهَدَاء سے سمجھا جاتا ہے۔اور اگر کسی مخالف کونبیوں کی عورتوں اور ان کے صحابہ کی عورتوں اور تمام شرفا کی عورتوں کی ہماری مخالفت کے لیے کچھ پرواہ نہ ہو تو پھر ذرہ شرم کر کے اپنی عورتوں کی نسبت ہی کچھ انصاف کرے کہ کیا اگر ان پر کوئی شخص ان کی عفت کے مخالف کوئی ایسی تہمت لگاوے جس کا کوئی ثبوت نہیں تو کیا وہ عورتیں آیت یزم په بریا کی مصداق ٹھہر کر بری سمجھی جاسکتی ہیں اور ایسا تہمت لگانے والا سزا کے لائق ٹھہرتا ہے یا وہ اس حالت میں بڑی سمجھی جائیں گی جبکہ وہ اپنی صفائی اور پاکدامنی کے عدالت میں گواہ گذرا نہیں اور جب تک وہ بذریعہ شہادتوں کے اپنی عفت کا عدالت میں ثبوت نہ دیں تب تک جو شخص چاہے ان کی عفت پر حملہ کرے اور ان کو غیر بری قرار دے۔کیا آیت موصوفہ بالا میں یعنی آیت يَزم په بریا میں بری کے لفظ کا یہی منشا ہے کہ اس میں گناہ کا ثابت نہ ہونا کافی نہیں بلکہ بذریعہ قوی شہادتوں کے عفت اور صفائی ثابت ہونی چاہیے۔۔۔۔۔اور دوسری قسم بری کی جس میں شخص ملزم اپنی پاک دامنی کا ثبوت دیتا ہے اس کا نام قرآن شریف میں مبرء رکھا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے أُولَبِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۱۷ تا ۳۲۰) زبان عرب اور قرآن شریف کے نصوص صریحہ کے رو سے تمام انسان جو دنیا میں ہیں کیا مرد اور کیا عورت يَقُولُونَ -