تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 340
۳۴۰ سورة النساء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکیموں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جیسے بعض انسان حیوانات کے قریب قریب ہوتے ہیں اسی طرح عقل تقاضا کرتی ہے کہ بعض انسان ایسے بھی ہوں جن کا جوہر نفس کمال صفوت اور لطافت پر واقعہ ہو۔تاجس طرح طبائع انسانی کا سلسلہ نیچے کی طرف اس قدر منزل نظر آتا ہے کہ حیوانات سے جا کر اتصال پکڑ لیا ہے اسی طرح اوپر کی طرف بھی ایسا متصاعد ہو کہ عالم اعلیٰ سے اتصال پکڑ لے۔( براہین احمدیہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۸۸،۱۸۷ حاشیہ نمبر۱۱) وَ مَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً اَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَ الا مبينان۔یعنی جو شخص کوئی خطا یا گناہ کرے اور پھر کسی ایسے شخص پر وہ گناہ لگاوے جس پر وہ گناہ ایک ثابت شدہ امر نہیں تو اس نے ایک کھلے کھلے بہتان اور گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر لیا۔پس اس جگہ خدائے عزوجل نے بری کے لفظ سے اس شخص کو مرا دلیا ہے جس پر کوئی گناہ ثابت نہ ہوا ہو اور اگر کوئی ہمارے اس بیان کی مخالفت کر کے یہ کہے کہ اس جگہ بری کے لفظ سے یہ معنے مراد نہیں ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ ایسے شخص پر گناہ لگاوے جس نے شہادتوں کے ذریعہ سے عدالت میں اپنا بے گناہ ہونا بپایہ ثبوت پہنچا دیا ہو اور گواہوں کے ذریعہ سے اپنا پاک دامن ہونا ثابت کر دیا ہو تو یہ معنے سراسر فاسد اور قرآن شریف کی منشاء سے صریح مخالف اور ضد ہیں کیونکر اگر یہی معنے اس آیت کے ہیں تو پھر اس صورت میں یہ بڑی خرابی لازم آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص پر تہمت لگانا کوئی گناہ نہ ہو جس پر وہ گناہ ثابت نہیں ہے بلکہ اسی کی نسبت گناہ ہو جس نے اپنی پاک دامنی پر عدالت میں گواہ دے دیئے ہوں اور اپنا بے قصور ہونا بپاؤ ثبوت پہنچا دیا ہواور یہ معنے با تفاق تمام گروہ اسلام باطل ہیں اسی وجہ سے تمام علماء اسلام کے نزدیک ایسے شخص بھی اس آیت کے مواخذہ کے نیچے ہیں جومستور الحال عورتوں پر زنا کا الزام لگاومیں اور گوان عورتوں کے اعمال مخفی ہوں مگر اس آیت میں ان کا نام بری رکھا کیونکہ شرعی طور پر ان پر جرم کا ثبوت نہیں پس اس نص قرآنی سے ثابت ہوا کہ جس پر شرعی طور پر جرم کا ثبوت نہ ہووہ بری ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عرب کی زبان بھی اس کا نام بری رکھتی ہے کیونکہ قرآن سے بڑھ کر محاورات عرب کے جاننے کے لیے اور کوئی ذریعہ نہیں اور اسی آیت کے مفہوم کی مؤید قرآن شریف کی وہ آیت ہے جو جز واٹھار کا سورۃ النور کی تیسری آیت ہے اور وہ یہ ہے۔وَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَربَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمِنِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ( النور : ۵)