تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 339
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة النساء اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے یعنی اس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفتِ قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صدور لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے اور یہ رجوع الہی بندہ نادم اور تائب کی طرح ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے اور جب تک کوئی گنہ گار تو بہ کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھو کر نہ کھاویں یا جو لوگ قومی بہیمیہ یا غضبیہ کے مغلوب ہیں ان کی فطرت بدل جاوے بلکہ اس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشے جائیں لیکن جو شخص بعض قوتوں میں فطرتا ضعیف ہے وہ قومی نہیں ہو سکتا اس میں تبدیل پیدائش لازم آتی ہے اور وہ بداہنا محال ہے اور خود مشہود ومحسوس ہے کہ مثلاً جس کی فطرت میں سریع الغضب ہونے کی خصلت پائی جاتی ہے وہ بھی الغضب ہر گز نہیں بن سکتا بلکہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسا آدمی غضب کے موقع پر آثار غضب بلا اختیار ظاہر کرتا ہے اور ضبط سے باہر آ جاتا ہے یا کوئی نا گفتنی بات زبان پر لے آتا ہے اور اگر کسی لحاظ سے کچھ صبر بھی کرے تو دل میں تو ضرور پیچ و تاب کھاتا ہے پس یہ احمقانہ خیال ہے کہ کوئی منتر جنتر یا کوئی خاص مذہب اختیار کرنا اس کی طبیعت کو بدلا دے گا اسی جہت سے اس نبی معصوم نے جس کی لبوں پر حکمت جاری تھی فرما یا خيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ یعنی جو لوگ جاہلیت میں نیک ذات ہیں وہی اسلام میں بھی داخل ہو کر نیک ذات ہوتے ہیں غرض طبائع انسانی جواہر کافی کی طرح مختلف الاقسام ہیں بعض طبیعتیں چاندی کی طرح روشن اور صاف بعض گندھک کی طرح بد بودار اور جلد بھڑ کنے والی بعض زیبق کی طرح بے ثبات اور بے قرار بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف اور جیسا یہ اختلاف طبائع بدیہی الثبوت ہے ایسا ہی انتظام ربانی کے بھی موافق ہے۔کچھ بے قاعدہ بات نہیں کوئی ایسا امر نہیں کہ قانون نظام عالم کے برخلاف ہو بلکہ آسائش و آبادی عالم اسی پر موقوف ہے ظاہر ہے کہ اگر تمام طبیعتیں ایک ہی مرتبہ استعداد پر ہوتیں تو پھر مختلف طور کے کام ( جو مختلف طور کی استعدادوں پر موقوف تھے ) جن پر دنیا کی آبادی کا مدار تھا حیز التوا میں رہ جاتے کیونکہ کثیف کاموں کے لیے وہ طبیعتیں مناسب حال ہیں جو کثیف ہیں اور لطیف کاموں کے لیے وہ طبیعتیں مناسبت رکھتی ہیں جو لطیف ہیں یونانی