تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 338

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة النساء پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔ دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔ اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق پر وہ گناہوں سے بچا رہے گا۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ جون/ ۱۹۰۴ صفحه ۱) وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ اور قوم کی ہمدردی میں سرگرم رہو تھکومت۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۳) اِنَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرْكَ اللَّهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَاسِنِينَ خَصِيمًا وَلَا تَكُنْ لِلْخَاسِنِينَ خَصِيمًا اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے مت جھگڑو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۳) وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا اتيمان اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے مت جھگڑو جو خیانت کرنے سے باز نہیں آتے خدا تعالیٰ خیانت پیشہ لوگوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه (۳۶۳) وَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رحيمان یعنی جس سے کوئی بدعملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا اس لطیف اور پر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس نا قصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابلہ پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے اور