تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 337

۳۳۷ سورة النساء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز بھی ظہر ہی سے شروع ہوتی ہے جو زوال کا وقت ہے یہاں تک کہ غروب تک بالکل تاریکی میں جا پڑتا ہے اور رات میں دعائیں کرتا ہے یہاں تک کہ صبح میں سے جا حصہ لیتا ہے نماز کی تقسیم بھی بتاتی ہے کہ خدا نے تقسیم میں ایک صبح اور باقی چار ایسی رکھی ہیں جو تاریکی سے حصہ رکھتی ہیں ورنہ ممکن تھا کہ اقبال تک ختم (احکام جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۴) اس ہو جاتیں۔میں طبعاً اور فطرتا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اگر چہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کیے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱) لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ انگلی اٹھایا کرتے تھے اس لیے اس کو سبابہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی۔خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح فرمائی اور وہ عادت ہٹا کر فرمایا کہ خدا کو واحد لاشریک کہتے وقت یہ انگلی اٹھایا کرو تا کہ اس سے وہ الزام اٹھ جاوے۔ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے اس کے عوض میں پانچ وقت نماز رکھی۔البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۶) ارکان نماز در اصل روحانی نشست و برخواست کے ہیں انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔رکوع جو دوسرا حصہ ہے۔بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمال ادب اور کمال تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔اب اگر ظاہری طریق میں ( جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے ) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتلا ؤاس میں کیا لذت اور حظ آ سکتا ہے اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اس کی حقیقت کیوں کر تحقیق ہوگی اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے اس وقت ایک سرور اور نورا اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ را پریل۱۸۹۹ صفحه ۵) (نمازوں میں تعداد رکعات کے متعلق فرمایا۔( اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں جو شخص نماز