تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 336

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ سورة النساء دلاتے ہیں۔اور پھر مصیبت کے اندر قدم رکھنا۔اور پھر ایسی حالت جب نومیدی۔۔۔۔پیدا ہوتی ہے اور پھر زمانہ تاریک مصیبت کا۔اور پھر صبح رحمت الہی کی یہ پانچ وقت ہیں۔جن کے نمونہ پانچ نمازیں ہیں۔پیغام مصلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۸۰ ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ یادداشتیں صفحہ ۴۲۲) یا درکھو کہ یہ جو پانچ وقت نماز کے لیے مقرر ہیں یہ کوئی تحکم اور جبر کے طور پر نہیں بلکہ اگر غور کرو تو یہ دراصل روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ آقمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ یعنی قائم کرو نماز کو دلوک الشمس سے۔اب دیکھو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں قیام صلوۃ کو داوک شمس سے لیا ہے۔دلوک کے معنوں میں گو اختلاف ہے۔لیکن دو پہر کے ڈھلنے کے وقت کا نام دلوک ہے۔اب دلوک سے لے کر پانچ نماز میں رکھ دیں۔اس میں حکمت اور سر کیا ہے۔قانون قدرت دکھاتا ہے کہ روحانی تذلل اور انکسار کے مراتب بھی دلوک ہی سے شروع ہوتے ہیں۔اور پانچ ہی حالتیں آتی ہیں پس یہ طبعی نماز بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حزن اور ہم و غم کے آثار شروع ہوتے ہیں۔اس وقت جبکہ انسان پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو کس قدر تذلل اور انکساری کرتا ہے۔اب اس وقت اگر زلزلہ آوے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ طبیعت میں کیسی رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلاً کسی شخص پر نالش ہو تو سمن یا وارنٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعہ فوجداری یا دیوانی میں نالش ہوتی ہے۔اب بعد مطالعہ وارنٹ اس کی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا۔کیونکہ وارنٹ یا سمن تک تو اسے کچھ معلوم نہ تھا۔اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہو؟ اس قسم کے ترودات اور تفکرات سے جو زوال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت دلوک ہے۔اور یہ پہلی حالت ہے جو نماز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہو۔فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہورہے ہیں۔اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا نمونہ ہے۔کیونکہ عصر گھوٹنے اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔جب حالت اور بھی نازک ہو جاتی ہے اور فرد قرار داد جرم لگ جاتی ہے تو یاس اور نا امیدی بڑھتی ہے کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ سزامل جاوے گی۔یہ وہ وقت ہے جو مغرب کی نماز کا عکس ہے۔پر جب حکم سنایا گیا اور منسٹبل یا کورٹ انسپکٹر کے حوالہ کیا گیا تو وہ روحانی طور پر نماز عشاء کی عکسی تصویر ہے یہاں تک کہ نماز کی صبح صادق ظاہر ہوئی۔اور اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کی حالت کا وقت آ گیا تو روحانی نماز فجر کا وقت آگیا۔اور فجر کی نماز اس کی عکسی تصویر ہے۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۲۲ ۱۲۷)