تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 335
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۵ سورة النساء بذریعہ وارنٹ گرفتار ہو کر حاکم کے سامنے پیش ہوتے ہو۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارا خوف سے خون خشک ہو جاتا ہے اور تسلی کا نورتم سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے۔ سو یہ حالت تمہاری اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب سے نور کم ہو جاتا ہے اور نظر اس پر جم سکتی ہے اور صریح نظر آتا ہے کہ اب اس کا غروب نزدیک ہے۔ اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عصر مقرر ہوئی ۔ (۳) تیسرا تغیر تم پر اس وقت آتا ہے۔ جو اس بلا سے رہائی پانے کی بکلی امید منقطع ہو جاتی ہے مثلاً جیسے تمہارے نام فرد قرار داد جرم لکھی جاتی ہے اور مخالفانہ گواہ تمہاری ہلاکت کے لیے گزر جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارے حواس خطا ہو جاتے ہیں اور تم اپنے تئیں ایک قیدی سمجھنے لگتے ہو۔سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور تمام امیدیں دن کی روشنی کی ختم ہو جاتی ہیں اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز مغرب مقرر ہے۔ (۴) چوتھا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے کہ جب بلاتم پر وارد ہی ہو جاتی ہے اور اس کی سخت تاریکی تم پر احاطہ کر لیتی ہے۔ مثلاً جبکہ فرد قرارداد جرم اور شہادتوں کے بعد حکم سزا تم کو سنایا جاتا ہے اور قید کے لیے ایک پولس مین کے تم حوالہ کیے جاتے ہو۔ سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے۔ جبکہ رات پڑ جاتی ہے اور ایک سخت اندھیرا پڑ جاتا ہے۔ اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عشا مقرر ہے۔ (۵) پھر جبکہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو۔ تو پھر آخر خدا کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمہیں اس تاریکی سے نجات دیتا ہے۔ مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔ سو اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہے اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لیے مقرر کیں ۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدہ کے لیے ہیں پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو۔ تو تم پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں۔ نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضا و قدر تمہارے لیے لائے گا۔ پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لیے خیر و برکت کا دن چڑھے ۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۹ ، ۷۰ ) خدا نے اپنے قانون قدرت میں مصائب کو پانچ قسم پر منقسم کیا ہے۔ یعنی آثار مصیبت کے جو خوف