تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 324

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۴ سورة النساء و جھوٹی گواہی دوں گا اور جذ بہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹی کلام نہ کروں گا۔ نہ لغوطور پر نہ کسب خیر کے لیے نہ دفع شر کے لیے یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا جب اس حد تک وعدہ کرتا ہے تو گویا ايَّاكَ نَعْبُدُ پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے اور وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ سے آگے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے خواہ یہ اس کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدء الفیوض اور صدق اور راستی کا چشمہ ہے اس کو ضرور مدد دے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا جیسے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ کوئی تاجر جو اچھے اصولوں پر چلتا ہے اور راستبازی اور دیانتداری کو ہاتھ سے نہیں دیتا اگر وہ ایک پیسہ سے تجارت کرے اللہ تعالیٰ اسے ایک پیسہ کے لاکھوں لاکھ روپیہ دیتا ہے۔ اسی طرح پر جب عام طور پر انسان راستی اور راست بازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے اور وہ صدق مجسم قرآن کریم ہے اور وہ صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے مامور ومرسل حق اور صدق ہوتے ہیں پس وہ اس صدق تک پہنچ جاتے ہیں تب ان کی آنکھ کھلتی ہے اور ایک خاص بصیرت ملتی ہے جس سے معارف قرآنی کھلنے لگتے ہیں ۔ - میں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھی طیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راست بازی کو اپنا شعار نہیں بناتا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے اس واسطے کہ اس کے قلب کو مناسبت ہی نہیں یہ تو صدق کا چشمہ ہے اس سے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) صدیق وہ ہوتے ہیں جو صدق سے پیار کرتے ہیں سب سے بڑا صدق لا اله الا الله ہے اور پھر دوسرا صدق مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے وہ صدق کی تمام راہوں سے پیار کرتے ہیں اور صدق ہی چاہتے ہیں ۔۔۔۔ صدیق عملی طور پر صدق سے پیار کرتا اور کذب سے پر ہیز کرتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه (۶) صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوءظن پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تا کہ اس معصیت اور اس کے برے نتیجے سے بچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنے والا ہے۔ اس کو کبھی معمولی چیز