تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 323

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ سورة النساء زیادہ میں اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا اگر چہ دل اس لذت سے بھرا ہوا ہے اگر چہ اس ذکر کی درازی اور بھی لذت بخش ہے مگر وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جس میں میں اس کو ظاہر کرسکوں۔نبیوں کا عظیم الشان کمال یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱/۱۰اپریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) صدیق وہ ہوتا ہے جس کو سچائیوں کا کامل طور پر علم بھی ہو اور پھر کامل اور طبعی طور پر ان پر قائم بھی ہو۔مثلاً اس کو ان معارف کی حقیقت معلوم ہو کہ وحدانیت باری تعالیٰ کیا شے ہے اور اس کی اطاعت کیا شے اور محبت باری عزاسمہ کیا شے اور شرک سے کس مرتبہ اخلاص پر مخلصی حاصل ہو سکتی ہے اور عبودیت کی کیا حقیقت ہے اور اخلاص کی حقیقت کیا اور تو بہ کی حقیقت کیا اور صبر اور توکل اور رضا اور محویت اور فنا اور صدق اور وفا اور تواضع اور سخا اور ابتہال اور دعا اور عفو اور حیا اور دیانت اور امانت اور اتقا وغیرہ اخلاق فاضلہ کی کیا کیا حقیقتیں ہیں۔پھر ماسوا اس کے ان تمام صفات فاضلہ پر قائم بھی ہو۔( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۲۰) صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے الکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۱۶) صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو بالکل راست بازی میں فنا شدہ ہو۔اور کمال درجہ کا پابند راست بازی اور عاشق صادق ہو۔اس وقت وہ صدیق کہلاتا ہے یہ ایک ایسا مقام ہے جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ ہر قسم کی صداقتوں اور راست بازیوں کا مجموعہ اور ان کو کشش کرنے والا ہو جاتا ہے جس طرح پر آتشی شیشہ سورج کی شعاعوں کو اپنے اوپر جمع کر لیتا ہے اسی طرح پر صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔بقول شخصے، زرزر کشد در جہاں گنج گنج۔جب ایک شے بہت بڑا ذخیرہ پیدا کر لیتی ہے تو اسی قسم کی اشیاء کو جذب کرنے کی قوت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا نہ