تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 322
۳۲۲ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء چونکہ وہی حصہ باقی ہوتا ہے اس لیے خدا ان سے کلام کرتا ہے اور وہ خدا کو مخاطب کرتے رہتے ہیں۔تنہائی اور بریکاری میں بھی جب ایسے خیالات کا سلسلہ ایک انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے اس وقت اگر نبی کو بھی ویسی ہی حالت میں دیکھو تو شاید غلطی اور نا واقعی سے یہ سمجھ لو کہ اب اس کا سلسلہ تو خدا سے کلام کا نہ ہو گا ؟ مگر نہیں وہ ہر وقت خدا ہی سے باتیں کرتا ہے کہ اے خدا میں تجھ سے پیار کرتا ہوں اور تیری رضا کا طالب ہوں۔مجھے پر ایسا فضل کر کہ میں اس نقطہ اور مقام تک پہنچ جاؤں جو تیری رضا کا مقام ہے۔مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جو تیری نظر میں پسندیدہ ہوں دنیا کی آنکھ کھول کہ وہ تجھے پہچانے اور تیرے آستانہ پر گرے۔یہ اس کے خیالات ہوتے ہیں اور یہ اس کی آرزوئیں۔اس میں ایسا محو اور فنا ہوتا ہے کہ دوسرا اس کو شناخت نہیں کر سکتا۔وہ اس سلسلہ کو ذوق کے ساتھ دراز کرتا ہے اور پھر اسی میں اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کا دل پگھل جاتا ہے اور اس کی روح بہ نکلتی ہے وہ پورے زور اور طاقت کے ساتھ آستانہ الوہیت پر گرتی اور انتَ رَبِّي أَنتَ ربی کہہ کر پکارتی ہے تب اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم جوش میں آتا ہے اور وہ اس کو مخاطب کرتا اور اپنے کلام سے اس کو جواب دیتا ہے۔یہ ایسا لذیذ سلسلہ ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا اور یہ لذت ایسی ہے کہ الفاظ اس کو ادا نہیں کر سکتے پس وہ بار بار مستسقی کی طرح باب ربوبیت ہی کو کھٹکا تا رہتا ہے اور وہاں ہی اپنے لیے راحت و آرام پاتا ہے۔وہ دنیا میں ہوتا ہے لیکن دنیا سے الگ ہوتا ہے۔وہ دنیا کی کسی چیز کا آرزومند نہیں ہوتا لیکن دنیا اس کی خادم ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کے قدموں پر دنیا کولا ڈالتا ہے۔یہ ہے مختصر حقیقت نبوت کے مقام کی۔یہاں کلام نفسی کے دونوں سلسلے بھسم ہو جاتے ہیں اور تیسر اسلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا مبدا اور منتہا خدا ہی ہوتا ہے اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو جذب کرتا ہے جس میں اس قسم کے دخان اور اضغاث احلام نہیں ہوتے جو نفسی کلام میں ہوتے ہیں بلکہ وہ دنیا سے انقطاع کلی کیے ہوئے ہوتا ہے جیسے ایک نفسانی خواہشوں کا اسیر اعلیٰ درجہ کا محبوبہ سے تعلق پیدا کر کے ہمہ گوش ہو کر تصور کرتا ہے اور اسے نفسانی لذات کا معراج پاتا ہے اور قطعا نہیں چاہتے کہ کسی دوسرے کو ملیں اسی طرح پر نبی خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو یہاں تک پہنچاتا ہے کہ وہ اس تنہائی اور خلوت میں کسی دوسرے کا دخل ہر گز پسند نہیں کرتے وہ اپنے محبوب سے ہمکلام ہوتا ہے اور اسی میں لذت و راحت پاتے ہیں وہ ایک دم کے لیے بھی اس خلوت کو چھوڑ نا پسند نہیں کرتے لیکن خدا تعالیٰ انہیں دنیا کے سامنے لاتا ہے تا کہ وہ دنیا کی اصلاح کریں اور خدا نما آئینہ ٹھہر ہیں۔نبی طبعاً ایک لذت اور کیفیت پاتا ہے اور اسے خدا تعالی ہی میں چاہتا ہے اس سے