تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 315

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ أولبِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ وَمَنْ يَلْعَنِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًات سورة النساء یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے اس کے لیے کوئی مددگار نہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۸۷) (۵۵) ام يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا أَنهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ ۚ فَقَدْ أَتَيْنَا الَ إبراهيم الكتب وَالْحِكْمَةَ وَأَتَيْنَهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا موسیٰ نے ظاہر ہو کر تین بڑے کھلے کھلے کام کیے جو دنیا پر روشن ہو گئے ایسے ہی کھلے کھلے تین کام جو دنیا پر بدیہی طور پر ظاہر ہو گئے ہوں جس نبی سے ظہور میں آئے ہوں وہی نبی مثیل موسیٰ ہوگا اور وہ کام یہ ہیں۔(۱) اول یہ کہ موسیٰ نے اس دشمن کو ہلاک کیا جو ان کی اور ان کی شریعت کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا (۲) دوسرے یہ کہ موسیٰ نے ایک نادان قوم کو جو خدا اور اس کی کتابوں سے ناواقف تھی اور وحشیوں کی طرح چار سو برس سے زندگی بسر کرتے تھے کتاب اور خدا کی شریعت دی یعنی توریت عنایت کی اور ان میں شریعت کی بنیاد ڈالی۔(۳) تیسرے یہ کہ بعد اس کے کہ وہ لوگ ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ان کو حکومت اور بادشاہت عنایت کی اور ان میں سے بادشاہ بنائے۔ان تینوں انعامات کا قرآن شریف میں ذکر ہے جیسا کہ فرمایا۔قال عَسَى رَبِّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ دیکھو سورة الاعراف الجزء 9۔اور پھر دوسری جگہ فرما یا فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا دیکھو سورۃ النساء - الجز و نمبر ۵۔اب سوچ کر دیکھ لو کہ ان تینوں کاموں میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ذرہ بھی مناسبت نہیں نہ وہ پیدا ہو کر یہودیوں کے دشمنوں کو ہلاک کر سکے اور نہ وہ ان کے لیے کوئی نئی شریعت لائے اور نہ انہوں نے بنی اسرائیل یا ان کے بھائیوں کو بادشاہت بخشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پیشگوئی سید نامحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پوری ہوگئی ہے اور ایسی صفائی سے پوری ہو گئی ہے کہ اگر مثلاً ایک ہندو کے سامنے بھی جو عقل سلیم رکھتا ہو یہ دونوں تاریخی واقعات رکھے جائیں یعنی جس طرح موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اور پھر سلطنت بخشی اور پھر ان وحشی لوگوں کو جو غلامی میں بسر کر رہے تھے ایک شریعت بخشی اور جس طرح سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غریبوں اور کمزوروں کو جو آپ پر ایمان لائے تھے عرب کے خونخوار درندوں سے نجات دی اور سلطنت عطا کی اور پھر اس وحشیانہ حالت کے بعد ان کو ایک شریعت عطا کی تو بلا شبہ وہ ہندو دونوں واقعات کو ایک ہی رنگ میں سمجھے گا اور ان کی مماثلت کی گواہی دے گا۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۹۹ تا ۳۰۲)