تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 314
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ سورة النساء ان کتابوں ( توریت اور انجیل ) کی نسبت قرآن مجید میں يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہ لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۵) إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا خدا ہر یک گناہ بخش دے گا جس کے لیے چاہے گا پر شرک کو ہر گز نہیں بخشے گا۔ براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۲۱ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اسی طرح پر خدا نے قرآن میں فرمایا يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ الخ یعنی ہر ایک گناہ کی مغفرت ہوگی مگر شرک کو خدا نہیں بخشے گا پس شرک کے نزدیک مت جاؤ اور اس کو حرمت کا درخت سمجھو۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۳، ۳۲۴ حاشیه ) یہاں شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات دنیا پر زور دیا جاوے اسی کا نام ہی شرک ہے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُونَ اَنْفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلا ۵۰ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ۔۔۔۔۔۔ اور ایک تاگے کے برابر کسی پر زیادتی نہیں ہوگی ۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَ يَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هُؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ یہ عیسائی اور یہودی جنہوں نے انجیل اور تو رات کو کچھ ادھورا سا پڑھ لیا ہے ایمان ان کا دیوتوں اور بتوں پر ہے اور مشرکوں کو کہتے ہیں کہ ان کا مذہب جو بت پرستی ہے وہ بہت اچھا ہے اور توحید کا مذہب جو مسلمان رکھتے ہیں یہ کچھ نہیں۔ (براہین احمد یہ چہار ص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۸۷)