تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 313
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٣ سورة النساء پڑھا کرتی تھی ایک دن اس نے پوچھا کہ درود میں جو صَلِّ عَلی مُحمد آتا ہے اس کے کیا معنے ہیں۔خاوند نے کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے رسول تھے اس پر اس نے تعجب کیا اور کہا کہ ہائے ہائے میں ساری عمر بیگا نہ مرد کا نام لیتی رہی۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۵،۱۱۴) ابتدا میں بعض صحابہ نے شراب پی ہوئی ہوتی تھی اور نماز پڑھ لیتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو منع نہیں کیا جب تک آیت کریمہ لا تقربوا الصلوةُ وَ انْتُمْ سُکری نہ نازل ہوئی۔دھو۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ /اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۴) بیجا عذر تراشنے کے واسطے تو بڑے حیلے ہیں بعض شریر لا تقربوا الصلوۃ کے یہ معنے کر دیتے ہیں کہ نماز نہ البدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۴) مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَع وَ رَاعِنَا لَيًّا بِالْسِنَتِهِمْ وَطَعْنَا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ وو قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم واقوم ولكن لعنهم اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو مؤخر کر دیتے تھے جن کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعہ کہ ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی سو ایسی تحریفوں سے ہر یک مسلمان کو ڈرنا چاہیے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱۵) دجال کی نسبت حدیثوں میں یہ بیان ہے کہ وہ دجل سے کام لے گا اور مذہبی رنگ میں دنیا میں فتنہ ڈالے گا سو قرآن شریف میں یہ صفت عیسائی پادریوں کی بیان کی گئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِه - چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۷،۸۶ حاشیه ) دجل یہ ہے کہ اندر ناقص چیز ہو اور اوپر کوئی صاف چیز ہو۔مثلاً او پر سونے کا مطمع ہو اور اندر تانبا ہو۔یہ دجل ابتدائے دنیا سے چلا آتا ہے مکر و فریب سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہا۔زرگر کیا کرتے ہیں؟ جیسے دنیا کے کاموں میں دجل ہے ویسے ہی روحانی کاموں میں بھی دجل ہوتا ہے۔يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ بھی الحکم جلد ۵ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ / اپریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) وجل ہے۔