تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 312
٣١٢ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ایک ملک کا دوسرے ملک سے تعارف اور شناسائی اور آمد و رفت کا کسی قدر دروازہ بھی کھل گیا اور دنیا میں مخلوق پرستی اور ہر ایک قسم کا گناہ بھی انتہا کو پہنچ گیا تب خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا تا بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لیے مشترک ہے دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ واحد لاشریک ہے ان میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گی یعنی جس کا خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے واحد لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے اس لیے اپنے تمام نظام جسمانی اور روحانی میں وحدت کو دوست رکھتا ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۰) اور خدا ان لوگوں پر تجھ کو گواہ لائے گا۔(براہین احمدیہ چہار ص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۱۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اللہ جل شانہ نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا - شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا تھا اس نے کچھ کہا تھا تو آپ نے فرمایا بس کر اب تو میں اپنی ہی امت پر گواہی دینے کے قابل ہو گیا ہوں مجھے فکر ہے کہ میری امت کو میری گواہی کی وجہ سے سزا الحکم جلد نمبر ۹ مورخہ ۱۰ ؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۱) ملے گی۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنْتُمْ سُكرى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ولا جنبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ اَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِنْكُم مِّنَ الْغَابِطِ اَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا b صَعِيدً ا طَيْبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا غَفُورات اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے آؤ یا عورتوں سے مباشرت کرو اور پانی نہ ملے تو ان سب صورتوں میں پاک مٹی سے تیم کرلو۔جن لوگوں کو ساری عمر میں تعلَمُوا نصیب نہ ہو ان کی نماز ہی کیا ہے؟ ایک عورت کا ذکر کرتے ہیں کہ نماز (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۱، ۳۳۲)