تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١١ سورة النساء b الْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوران تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھیرا ؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے ) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا مگر افسوس ! کہ ایک آریہ بجز عوض معاوضہ کے کسی پر رحم نہیں کر سکتا کیونکہ یہ صفت اس کے پرمیشر میں بھی موجود نہیں کیونکہ وہ بھی صرف اعمال کی جزا دے سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں اور اسی وجہ سے مکتی محدود ہے نہ دائگی۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۹،۲۰۸) تم ماں باپ سے نیکی کرو اور قریبیوں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور ہمسایہ سے جو تمہارا قریبی ہے اور ہمسایہ سے جو بیگانہ ہے اور مسافر سے اور نوکر اور غلام اور گھوڑے اور بکری اور بیل اور گائے سے اور حیوانات سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں کیونکہ خدا کو جو تمہارا خدا ہے یہی عادتیں پسند ہیں۔وہ لا پروا اور خود غرضوں سے محبت نہیں کرتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۸) الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا النَّهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينان ایسے لوگوں کو نہیں چاہتا جو بخیل ہیں اور لوگوں کو بخل کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنے مال کو چھپاتے ہیں یعنی محتاجوں کو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۸) فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هُوَ لَا ءِ شَهِيدًان جب ان قوموں میں ایک مدت دراز گزرنے کے بعد باہمی تعلقات پیدا ہونے شروع ہو گئے اور