تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 304
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۴ سورة النساء اس جگہ یادر ہے کہ یہ خلق جس کا نام احصان یا عفت ہے یعنی پاک دامنی یہ اسی حالت میں خلق کہلائے گا جبکہ ایسا شخص جو بدنظری یا بدکاری کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے یعنی قدرت نے وہ قومی اس کو دے رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے اس جرم کا ارتکاب ہوسکتا ہے اس فعل شنیع سے اپنے تئیں بچائے۔اور اگر باعث بچہ ہونے یا نامرد ہونے یا خوجہ ہونے یا پیر فرتوت ہونے کے یہ قوت اس میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس کو اس خلق سے جس کا نام احسان یا عفت ہے موصوف نہیں کر سکتے ہاں یہ ضرور ہے کہ عفت اور احصان کی اس میں ایک طبعی حالت ہے مگر ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ طبعی حالتیں خلق کے نام سے موسوم نہیں ہوسکتیں بلکہ اس وقت خلق کی مد میں داخل کی جائیں گی جبکہ عقل کے زیر سایہ ہو کر اپنے محل پر صادر ہوں یا صادر ہونے کی قابلیت پیدا کر لیں لہذا جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ بچے اور نامرد اور ایسے لوگ جو کسی تدبیر سے اپنے تئیں نامرد کر لیں اس خلق کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے گو بظاہر عفت اور احسان کے رنگ میں اپنی زندگی بسر کریں بلکہ تمام صورتوں میں ان کی عفت اور احصان کا نام طبعی حالت ہوگا نہ اور کچھ۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۱،۳۴۰) واضح ہو کہ احسان کا لفظ حصن سے مشتق ہے اور حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احسان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بدنظری سے بچ سکتا ہے اور نیز اولاد ہو کر خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچا رہتا ہے پس گویا نکاح ہر ایک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔آرید هرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲ حاشیه ) ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پر ہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو اور اولاد صالح طلب کرنے کے لیے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ یعنی چاہیے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقومی اور پر ہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو اور محسنین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے سو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں ایک عفت اور پر ہیز گاری دوسری حفظ صحت، تیسری اولاد۔آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲) اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو دوسروں کے قید نکاح میں ہیں مگر وہ عورتیں جو شرعی طور پر ظالم کا فروں کی لڑائی میں قید ہو کر تمہارے قبضہ میں آئی ہوں۔یہ خدا کا حکم تحریری ہے جو تم پر لازم کیا جاتا ہے ان عورتوں