تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 298
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة النساء ( عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُونِ ) در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہر و۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی کرو اور حدیث میں ہے خَیرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ بِأَهْلِهِ - اربعين ) یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو ان کے لیے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔(ضمیمہ تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۷۵ حاشیہ، اور اربعین نمبر ۳ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۸ حاشیه ) قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ اگر مرد اپنی عورت کو مروت اور احسان کی رو سے ایک پہاڑ سونے کا بھی دے تو طلاق کی حالت میں واپس نہ لے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام میں عورتوں کی کس قدر عزت کی گئی ہے ایک طور سے تو مردوں کو عورتوں کا نوکر ٹھیرایا گیا ہے اور بہر حال مردوں کے لیے قرآن شریف میں یہ حکم ہے که عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی تم اپنی عورتوں سے ایسے حسن سلوک سے معاشرت کرو کہ ہر ایک عقل مند معلوم کر سکے کہ تم اپنی بیوی سے احسان اور مروت سے پیش آتے ہو۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۸) فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں اور فرمایا ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں ہم کو خدا نے مرد بنایا اور یہ در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے اس کا شکر یہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔۔۔۔۔۔میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور با ایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی لیں پڑھیر کا نتیجہ ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۰ صفحه ۴،۳) ہمارے بادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَیرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں۔دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زدو کوب کرے ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض