تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 297

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۷ سورة النساء کی درخواست کریں۔چونکہ بیٹے کی نسبت سے آگے پوتے میں جا کر کمزوری ہو جاتی ہے اور آخر ایک حد پر آکر تو برائے نام رہ جاتا ہے۔خدا تعالی کو یہ علم تھا کہ اس طرح کمزوری نسل میں اور ناطہ میں ہو جاتی ہے اس لیے یہ قانون رکھا۔ہاں ایسے سلوک اور رحم کی خاطر خدا تعالیٰ نے ایک اور قانون رکھا ہے جیسے قرآن شریف میں بے وَ إِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْن وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلاً معْرُوفًا۔( یعنی جب ایسی تقسیم کے وقت بعض خویش و اقارب موجود ہوں اور یتیم اور مساکین تو ان کو کچھ دیا تو کرو) تو وہ ہوتا جس کا باپ مر گیا ہے وہ یتیم ہونے کے لحاظ سے زیادہ مستحق اس رقم کا ہے اور یتیم میں اور لوگ بھی شامل ہیں (جن کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا) خدا تعالیٰ نے کسی کا حق ضائع نہیں کیا مگر جیسے جیسے رشتہ میں کمزوری بڑھتی جاتی ہے حق کم ہوتا جاتا ہے۔(البدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۷۶) وَ مَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَة يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ ۱۵ عَذَابٌ مُهين جو شخص خدا اور رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے باہر ہو جائے خدا اس کو جہنم میں داخل کرے گا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر ذلیل کرنے والا عذاب نازل ہوگا۔اب دیکھو کہ رسول سے قطع تعلق کرنے میں اس سے بڑھ کر اور کیا وعید ہو گا کہ خدائے عز وجل فرماتا ہے کہ جو شخص رسول کی نافرمانی کرے اس کے لیے دائی جہنم کا وعدہ ہے مگر میاں عبدالحکیم کہتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم کا مکذب اور نافرمان ہوا گر وہ تو حید پر قائم ہو تو وہ بلا شبہ بہشت میں جائے گا مجھے معلوم نہیں کہ ان کے پیٹ میں کس قسم کی توحید ہے کہ باوجود نبی کریم کی مخالفت اور نافرمانی کے جو تو حید کا سر چشمہ ہے بہشت تک پہنچا سکتی ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۰،۱۲۹) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُدُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضٍ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ يَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيران یہ بھی تمہارے لیے جائز نہ ہوگا کہ جبراً عورتوں کے وارث بن جاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶)