تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 285
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۵ سورة النساء غور و پرداخت اور حقوق میں کمی کی جاوے گی مگر میری جماعت کو اس طرح نہ کرنا چاہیے اگر چہ عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا ہاں یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کی غور و پرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری سے اسے زیادہ خوش رکھا جاوے ور نہ یہ نہ ہو کہ بجائے ثواب کے عذاب ہو۔عیسائیوں کو بھی اس امر کی ضرورت پیش آئی ہے اور بعض دفعہ پہلی بیوی کو زہر دے کر دوسری کی تلاش سے اس کا ثبوت دیا ہے یہ تقومی کی عجیب راہ ہے مگر بشر طیکہ انصاف ہو اور پہلی کی نگہداشت میں کمی نہ ہو۔البدر جلد ۳ نمبر۷ مورخہ ۱۶ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۱) بد نظری اور بدکاری سے بچنے کے لیے ہم نے اپنی جماعت کو کثرت ازدواجی کی بھی نصیحت کی ہے کہ تقویٰ کے لحاظ سے اگر وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا چاہیں تو کر لیں مگر خدا کی معصیت کے مرتکب نہ ہوں پھر ( گناہ کر کے ) جو شخص ایمان کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔(البدرجلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۴) ایک احمدی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ تعدد ازواج میں جو عدل کا حکم ہے کیا اس سے یہی مراد ہے کہ مرد بحیثیت الرِّجَالُ قَوامُونَ عَلَى النِّسَاءِ کے خود ایک حاکم عادل کی طرح جس بیوی کو سلوک کے قابل پاوے ویساسلوک اس سے کرے یا کچھ اور معنے ہیں۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ محبت کو قطع نظر بالائے طاق رکھ کر عملی طور پر سب بیویوں کو برابر رکھنا چاہیے مثلاً پارچه جات، خرچ خوراک، معاشرت حتی کہ مباشرت میں بھی مساوات برتے۔یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوا رہنا پسند کرے۔خدا تعالیٰ کی تہدید کے نیچے رہ کر جو شخص زندگی بسر کرتا ہے وہی ان کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسی لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے تعدد ازواج کی نسبت اگر ہم تعلیم دیتے ہیں تو صرف اس لیے کہ معصیت میں پڑنے سے انسان بچار ہے اور شریعت نے اسے بطور علاج کے ہی رکھا ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوات کی طرف دیکھے اور اس کی نظر بار بار خراب ہوتی ہو تو زنا سے بچنے کے لیے دوسری شادی کر لے لیکن پہلی بیوی کے حقوق تلف نہ کرے۔تورات سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس کی دلداری زیادہ کرے کیونکہ جوانی کا بہت سا حصہ اس نے اس کے ساتھ گزارا ہوا ہوتا ہے اور ایک گہرا تعلق خاوند کا اس کے ساتھ ہوتا ہے پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک کرنی چاہیے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری