تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 277

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۷ سورة النساء یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں جیسا کہ ایک گدا روٹی کو اور جو لوگ خدا کی راہ میں مصیبتوں کی آگ میں پڑتے ہیں جن کا دل ہر وقت مغموم رہتا ہے اور خدا کی راہ میں بڑے مقاصد مگر دشوار گذار اُن کی روح کو تحلیل کرتے اور کمر کو توڑتے رہتے ہیں ان کے لیے خدا خود تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنے دن یا رات میں سے چند منٹ اپنی مانوس بیویوں کے ساتھ بسر کریں اور اس طرح پر اپنے کوفتہ اور شکستہ نفس کو آرام پہنچا ویں اور پھر سر گرمی سے اپنے دینی کام میں مشغول ہو جاویں۔ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھتا مگر وہ جو اس راہ میں مذاق رکھتے ہیں۔میں نے ہندوؤں کی ہی پستک میں یہ ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک شخص کسی بہت ضروری کام کے لیے کسی طرف جاتا تھا اور راہ میں اس کے ایک خونخوار دریا تھا۔اور کوئی کشتی نہیں تھی اور جانا ضروری تھا جب وہ دریا کے کنارہ پر پہنچا تو ایک فقیر کو اس نے دیکھا جس کی سو بیوی تھی جب اس نے اس کی خدمت میں عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ میں کسی طرح اس دریا سے پار ہو جاؤں اس فقیر نے کہا کہ تو دریا کے کنارہ پر جا اور اس دریا کو کہہ دے کہ میں تیرے آگے اس فقیر مجرد کا واسطہ ڈالتا ہوں جو تیرے کنارہ پر بیٹھا ہے جس نے ساری عمر میں کسی عورت کو چھوا بھی نہیں۔پس اگر یہ بات سچ ہے تو مجھے راہ دے دے جب اس شخص نے یہ پیغام اس دریا کو پہنچایا تو یہ سنتے ہی دریا نے راہ دے دی اور وہ دریا سے پار ہو گیا اور آتے وقت پھر وہی مشکل تھی اور دوسرے کنارہ پر اور فقیر بیٹھا ہوا تھا جو ہر روز ایک دیگ پلاؤ کی کھاتا تھا یہ شخص اس کے پاس گیا اور اپنی مشکل بیان کی اس نے کہا کہ دریا کو میری طرف سے جا کر کہہ دے کہ میں تیرے آگے اس فقیر کا واسطہ ڈالتا ہوں جو تیرے کنارہ پر بیٹھا ہے جس نے کبھی ایک دانہ اناج کا بھی نہیں کھایا۔اگر یہ بات سچ ہے تو مجھے راہ دے دے۔تب فی الفور دریا نے راہ دے دی۔چه تو مردان آن راه چون بنگری بنگری که از کینه و بغض کوروکری دانی که ایشان چساں می زیند ز دنیا نهان در نهان می زیند فدا گشت در راه آن جان پناه زکف دل ز سر اوفتاده کلاه ولے ریش رفتہ بکوئے دگر ز تحسین ولعن جہان بے خبر چو بیت المقدس دروں پر زتاب رہا کرده دیوار بیرون خراب (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۹) کثرت ازدواج کثرت اولاد کا موجب ہے جو ایک برکت ہے۔اگر ایک عورت کا سو خاوند ہو تو اس کو سو