تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 273

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة النساء ان انبیاء کا جن کے دلوں پر گویا ہر دم الہام الہی کی تار لگی ہوئی تھی اور ہر آن خوشنودی یا نا خوشنودی کی تفصیل کے بارے میں احکام وارد ہورہے تھے ایک دائمی گناہ نہیں ہے جس سے وہ اخیر عمر تک باز نہ آئے اور خدا اور اس کے حکموں کی کچھ پروانہ کی۔وہ غیرت مند اور نہایت درجہ کا غیور خدا جس نے نافرمانی کی وجہ سے نمود اور عاد کو ہلاک کیا، لوط کی قوم پر پتھر برسائے ، فرعون کو معہ تمام شریر جماعت کے ہولناک طوفان میں غرق کر دیا کیا اس کی شان اور غیرت کے لائق ہے کہ اس نے ابراہیم اور یعقوب اور موسیٰ اور داؤد اور سلیمان اور دوسرے کئی انبیاء کو بہت سی بیویوں کے کرنے کی وجہ سے تمام عمر نا فرمان پا کر اور پکے سرکش دیکھ کر پھر ان پر عذاب نازل نہ کیا بلکہ انہیں سے زیادہ تر دوستی اور محبت کی۔کیا آپ کے خدا کو الہام اتارنے کے لیے کوئی اور آدمی نہیں ملتا تھا یا بہت سی جو رواں کرنے والے ہی اس کو پسند آگئے؟ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ نبیوں اور تمام برگزیدوں نے بہت سی جو رواں کر کے اور پھر روحانی طاقتوں اور قبولیتوں میں سب سے سبقت لے جا کر تمام دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوست الہی بننے کے لیے یہ راہ نہیں کہ انسان دنیا میں مخنتوں اور نامردوں کی طرح رہے بلکہ ایمان میں قومی الطاقت وہ ہے جو بیویوں اور بچوں کا سب سے بڑھ کر بوجھ اٹھا کر پھر باوجودان سب تعلقات کے بے تعلق ہو۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۸۱ تا ۲۸۴) اگر چہ آریہ سماج والے تعدد ازواج کو نظر نفرت سے دیکھتے ہیں مگر بلاشبہ وہ اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں جس کے لیے اکثر انسان تعدد ازواج کے لیے مجبور ہوتا ہے اور وہ یہ کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کے لیے یہ ضروری امر ہے کہ اپنی نسل باقی رہنے کے لیے کوئی احسن طریق اختیار کرے اور لا ولد رہنے سے اپنے تئیں بچاوے اور یہ ظاہر ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی سے اولا د نہیں ہوتی اور یا ہوتی ہے اور بباعث لاحق ہونے کسی بیماری کے مر مر جاتی ہے اور یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں مرد کو دوسری بیوی کے نکاح کے لیے ضرورت پیش آتی ہے خاص کر ایسے مرد جن کی نسل کا مفقود ہونا قابل افسوس ہوتا ہے اور ان کی ملکیت اور ریاست کو بہت حرج اور نقصان پہنچتا ہے ایسا ہی اور بہت سے وجوہ تعدد نکاح کے لیے پیش آتے ہیں مگر بالفعل ہم صرف یہ ایک ہی وجہ بیان کر کے قرآن شریف کی اس تعلیم کا جو تعدد ازواج کی ضرورت پیش کرتی ہے وید کی اس تعلیم سے مقابلہ کرتے ہیں جو ضرورت مندرجہ بالا کے پورا کرنے کے لیے وید نے پیش کی ہے۔سنو! جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں قرآن شریف میں انسانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لیے تعد وازواج