تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 12

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة ال عمران پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ : إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الميعاد مگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ: إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْوَعِيْد۔پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دُعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے۔تمام پیغمبروں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ اور دُعا اور خوف اور خشوع سے وہ بلا جو خدا کے علم میں ہے، جو کسی شخص پر آئے گی وہ رق (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴) ہو سکتی ہے۔قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ۱۳ کافروں کو کہہ دے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور پھر آخر جہنم میں پڑو گے۔کہ b ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۹ حاشیہ نمبر ۱۱) انسان جس لذت کا خو گرفتہ اور عادی ہو جب وہ اس سے چھڑائی جاوے تو وہ ایک دکھ اور درد محسوس کرتا ہے اور یہی جہنم ہے پس جبکہ ساری لذتیں دنیا کی چیزوں میں محسوس کرنے والا ہو تو ایک دن یہ ساری لذتیں تو چھوڑنی پڑیں گی پھر وہ سیدھا جہنم میں جاوے گا لیکن جس شخص کی ساری خوشیاں اور لذتیں خدا میں ہیں اس کو کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہو سکتی۔وہ اس دنیا کو چھوڑتا ہے تو سیدھا بہشت الحکم جلدے نمبر ا ، مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه (۱۱) میں ہوتا ہے۔الصبِرِينَ وَ الصُّدِقِينَ وَ الْقَنِتِينَ وَ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بالأسْحَارِ خدا تعالیٰ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم ہر روز صبح کے وقت استغفار کیا کرو۔وہ فرماتا ہے: الصبرين وَالصَّدِقِينَ وَالْقَنِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ پھر فرماتا ہے: إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذلِكَ مُحْسِنِينَ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَ بِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الذاريات: ۱۷ تا ۱۹) ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں یہی حکم نہیں کرتا کہ جس وقت تم سے کوئی گناہ سرزد ہو اُس وقت استغفار کیا کرو بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بغیر گناہوں کے ارتکاب کے بھی ہم استغفار کیا کریں۔لے استغفار کے لئے دیکھیں تفسیر سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۰۰ ریویو جلد ۲ نمبر ۶ بابت جون ۱۹۰۳ء صفحه ۲۴۳)