تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 272

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۲ سورة النساء حفاظت کی ہے اور کیسے اس نے اُجڑے ہوئے گھروں کو بیک دفعہ آباد کر دیا ہے اور انسان کے تقویٰ کے لیے یہ فعل کیساز بر دست مرد و معین ہے خاوندوں کی حاجت براری کے بارے میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے جیسے ایام حمل اور حیض نفاس میں یہ طریق با برکت اس نقصان کا تدارک تام کرتا ہے اور جس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کے رو سے کر سکتا ہے وہ اسے بخشتا ہے ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بدشکل ہو جائے تو مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا مدار عورت کی کارروائی کا ہے بیکار اور معطل ہو جاتی ہے لیکن اگر مرد بد شکل ہو تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ کارروائی کی گل مرد کو دی گئی ہے اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے ہاں اگر مردا اپنی قوت مردمی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کے رو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ دار اور کار برار نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لیے قائم رہتا ہے۔جو لوگ قوی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں ان کے لیے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے بعض اسلام کے مخالف نفس امارہ کی پیروی سے سب کچھ کرتے ہیں مگر اس پاک طریق سے سخت نفرت رکھتے ہیں کیونکہ بوجہ اندرونی بے قیدی کے جوان میں پھیل رہی ہے ان کو اس پاک طریق کی کچھ پروا اور حاجت نہیں اس مقام میں عیسائیوں پر سب سے بڑھ کر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے مسلم النبوت انبیاء کے حالات سے آنکھ بند کر کے مسلمانوں پر ناحق دانت پیسے جاتے ہیں۔شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح کے جسم اور وجود کا خمیر اور اصل جڑا اپنی ماں کی جہت سے وہی کثرت ازدواج ہے جس کی حضرت داؤد ( مسیح کے باپ ) نے نہ دونہ تین بلکہ سو بیوی تک نوبت پہنچائی تھی وہ بھی ایک سے زیادہ بیوی کرنا زنا کرنے کی مانند سمجھتے ہیں اور اس پر خبت کلمہ کا نتیجہ جو حضرت مریم صدیقہ کی طرف عائد ہوتا ہے اس سے ذرا پر ہیز نہیں کرتے اور باوجود اس تمام بے ادبی کے دعویٰ محبت مسیح رکھتے ہیں۔جانا چاہیے کہ نیکن کے رو سے تعدد نکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح کے دادا صاحب بھی شامل ہیں عملاً اس فعل کے جواز بلکہ استقباب پر مہر لگا دی ہے۔اے ناخدا ترس عیسائیو! اگر ملہم کے لیے ایک ہی جو رو ہونا ضروری ہے تو پھر کیا تم داؤد جیسے راست باز نبی کو نبی اللہ نہیں مانو گے یا سلیمان جیسے مقبول الہی کو ملہم ہونے سے خارج کر دو گے۔کیا بقول تمہارے یہ دائمی فعل