تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 271

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء انگریزوں نے بھی لکھا ہے۔قرآن کریم نے ان صد ہانکاحوں کے عدد کو گھٹا کر چار تک پہنچا دیا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا فان خِفْتُمْ اَلَا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةٌ یعنی اگر تم ان میں اعتدال نہ رکھو تو پھرا ایک ہی رکھوپس اگر کوئی قرآن کے زمانہ پر ایک نظر ڈال کر دیکھے کہ دنیا میں تعدد ازدواج کس افراط تک پہنچ گیا تھا اور کیسی بے اعتدالیوں سے عورتوں کے ساتھ برتا ؤ ہوتا تھا تو اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ قرآن نے دنیا پر یہ احسان کیا کہ ان تمام بے اعتدالیوں کو موقوف کر دیا لیکن چونکہ قانون قدرت ایسا ہی پڑا ہے کہ بعض اوقات انسان کو اولاد کی خواہش اور بیوی کے عقیمہ ہونے کے سبب سے یا بیوی کے دائمی بیمار ہونے کی وجہ سے یا بیوی کی ایسی بیماری کے عارضہ سے جس میں مباشرت ہرگز نا ممکن ہے جیسی بعض صورتیں خروج رحم کی جن میں چھونے کے ساتھ ہی عورت کی جان نکلتی ہے اور کبھی دس دس سال ایسی بیماریاں رہتی ہیں اور یا بیوی کا زمانہ پیری جلد آنے سے یا اس کے جلد جلد حمل دار ہونے کے باعث سے فطرتا دوسری بیوی کی ضرورت پڑتی ہے اسی لیے اس قدر تعدد کے لیے جواز کا حکم دے دیا اور ساتھ اس کے اعتدال کی شرط لگادی سو یہ انسان کی حالت پر رحم ہے تا وہ اپنی فطری ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت الہی حکمت کے تدارک سے محروم نہ رہے۔جن کو اس بات کا علم نہیں کہ عرب کے باشندے قرآن شریف سے پہلے کثرت ازدواج میں کس بے اعتدالی تک پہنچے ہوئے تھے ایسے بیوقوف ضرور کثرت ازدواجی کا الزام اسلام پر لگائیں گے مگر تاریخ کے جاننے والے اس بات کا اقرار کریں گے کہ قرآن نے ان رسموں کو گھٹایا ہے نہ کہ بڑھایا۔پس جس نے تعدد ازواج کی رسم کو گھٹایا اور نہایت ہی کم کر دیا اور صرف اس اندازہ پر جواز کے طور پر رہنے دیا جس کو انسان کی تمدن کی ضرورتیں کبھی نہ کبھی چاہتی ہیں کیا اس کو کہہ سکتے ہیں کہ اس نے شہوت رانی کی تعلیم سکھائی ہے؟ آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴، ۴۵) یہ کیسی بے انصافی ہے کہ جن لوگوں کے مقدس اور پاک نبیوں نے سینکڑوں بیویاں ایک ہی وقت میں رکھی ہیں وہ دو یا تین بیویاں کا جمع کرنا ایک کبیرہ گناہ سمجھتے ہیں بلکہ اس فعل کو ز نا اور حرام کاری خیال کرتے ہیں۔کسی خاندان کا سلسلہ صرف ایک ایک بیوی سے ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہ سکتا۔بلکہ کسی نہ کسی فرد سلسلہ میں یہ وقت آپڑتی ہے کہ ایک جور و عقیمہ اور ناقابل اولا نکلتی ہے اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ در اصل بنی آدم کی نسل ازدواج مکرر سے ہی قائم و دائم چلی آتی ہے اگر ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو اب تک نوع انسان قریب قریب خاتمہ کے پہنچ جاتی۔تحقیق سے ظاہر ہوگا کہ اس مبارک اور مفید طریق نے انسان کی کہاں تک