تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 263

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة ال عمران پتا دیتے ہیں جس کی طرف مذہب اسلام دعوت کرتا ہے۔ اس آیت میں کس قدر صاف حکم ہے کہ دانشمند ا پنی دانشوں اور مغزوں سے بھی کام لیں اور جان لیں کہ اسلام کا خدا ایسا گورکھ دھندا نہیں کہ اسے عقل پر پتھر مار کر بجبر منوایا جائے اور صحیفہ فطرت میں کوئی بھی ثبوت اس کے لیے نہ ہو بلکہ فطرت کے ۶ وسیع اوراق میں اس کے اس قدر نشانات ہیں جو صاف بتلاتے ہیں کہ وہ ہے۔ ایک ایک چیز اس کا ئنات کے میں اس نشان اور تختہ کی طرح ہے جو ہر سڑک یا گلی کے سر پر اس سڑک یا محلہ یا شہر کا نام معلوم کرنے لیے لگائے جاتے ہیں۔ خدا کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور اس موجود ہستی کا پتہ ہی نہیں بلکہ مطمئن کر دینے ہے والا ثبوت دیتی ہے زمین و آسمان کی شہادتیں کسی مصنوعی اور بناوٹی خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیتیں بلکہ اس خدائے أحد الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ کی ہستی کو دکھاتی ہیں جو زندہ اور قائم خدا ہے اور جسے اسلام پیش کرتا ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۱،۷۰) طبعی تحقیقا تیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں توحید ہی توحید نکلتی چلی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ اس آیت إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ الآیۃ میں بتلاتا ہے کہ جس خدا کو قرآن پیش کرتا ہے اس کے لیے رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ اے ) زمین آسمان دلائل سے بھرے پڑے ہیں ۔ قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔ پھر اس کے آگے فرماتا ہے : الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ الآية - اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں ۔ یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ عقل و دانش ایسی چیزیں ہیں جو یونہی حاصل ہو سکتی ہیں ،نہیں ! بلکہ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی ۔ اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست است سے ڈرو کیونکہ وہ نو ر الہی سے دیکھتا ہے۔ صحیح فراست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو، فکر کرو، سوچو، تدبر اور فکر کے لیے قرآن کریم میں بار بار تا کیدیں موجود ہیں۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پارسا طبع ہوجاؤ۔ جب تمہارے دل ارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هُذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گا۔ اس وقت سمجھ میں آجائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں ج