تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 259

۲۵۹ سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اور تم یہودیوں اور عیسائیوں اور دوسرے مشرکوں سے بہت کچھ دل دکھانے کی باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو گے اور ہر یک طور کی بے صبری اور اضطراب سے پر ہیز کرو گے تو اُن لوگوں کے مکر کچھ بھی تمہارا بگاڑ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۹ حاشیہ نمبر ۱۱) نہیں سکیں گے۔تم اہل کتاب اور دوسرے مخلوق پرستوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے۔تب اگر تم صبر کرو گے اور زیادتی سے بچو گے تو تم خدا کے نزدیک اولوا العزم شمار کئے جاؤ گے۔البلاغ فریاد درد، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۹۱،۳۹۰) قرآن شریف میں بھی آخری زمانہ میں پادریوں اور مشرکوں کا اسلام پر اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بدگوئی اور فحش گوئیوں کے ساتھ زبان کھولنا بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے: وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا یعنی تم اہلِ کتاب اور مشرکوں سے دلآزار اور دُکھ دینے والی باتیں بہت سنو گے۔سوجس قدر اس زمانہ میں دل آزار باتیں سنی گئیں اُن کی نظیر تیرہ سو برس میں نہیں پائی گئی۔اس لئے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہی زمانہ ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۱۲ حاشیه ) اہل علم مسلمان اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بارے میں ایک پیشگوئی ہے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے وصیت کے طور پر ایک حکم ہے جس کو ترک کرنا سچے قف مسلمان کا کام نہیں ہے اور وہ یہ ہے: لَتُبْلُونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمور - سورة آل عمران - ترجمہ یہ ہے کہ خدا تمہارے مالوں اور جانوں پر بلا بھیج کر تمہاری آزمائش کرے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے سو اگر تم صبر کرو گے اور اپنے تئیں ہر ایک ناکردنی امر سے بچاؤ گے تو خدا کے نزدیک اولو العزم لوگوں میں سے ٹھہرو گے۔یہ مدنی سورۃ ہے اور یہ اس زمانہ کے لیے مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ جب ایک مذہبی آزادی کا زمانہ ہو گا کہ جو کچھ کوئی سخت گوئی کرنا چاہے وہ کر سکے گا جیسا کہ یہ زمانہ ہے۔سو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے لیے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں آدمی کینیڈا کا لفظ ایک عظیم الشان ایذارسانی کو چاہتا ہے اور کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی ہے؟ اس صدی سے پہلے عیسائی مذہب کا یہ طریق نہ تھا کہ اسلام پر