تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 258

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۸ سورة ال عمران اَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (حم السجدة : ۳۱) سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف اسلام میں ہے عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے۔قف (حجۃ الاسلام، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۲، ۴۳) كتُبُلَونَ فِي اَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ " وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۖ وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (^2) تم اپنے مالوں اور جانوں میں بھی آزمائے جاؤ گے ، لوگ تمہارے مال لوٹیں گے تمہیں قتل کریں گے اور تم یہودیوں اور عیسائیوں اور مشرکوں کے ہاتھ سے بہت ہی ستائے جاؤ گے۔وہ بہت کچھ ایڈا کی باتیں تمہارے حق میں کہیں گے۔پس اگر تم صبر کرو گے اور بیجا باتوں سے بچو گے تو یہ ہمت اور بہادری کا کام ہو گا۔ان تمام آیات کا مطلب یہ ہے کہ بابرکت علم وہی ہوتا ہے جو عمل کے مرتبہ میں اپنی چمک دکھاوے اور منحوس علم وہ ہے جو صرف علم کی حد تک رہے کبھی عمل تک نوبت نہ پہنچے۔جاننا چاہئے کہ جس طرح مال تجارت سے بڑھتا ہے اور پھولتا ہے ایسا ہی علم عملی مزاولت سے اپنے روحانی کمال کو پہنچتا ہے۔سو علم کو کمال تک پہنچانے کا بڑا ذریعہ عملی مزاولت ہے۔مزاولت سے علم میں نور آ جاتا ہے اور یہ بھی سمجھو کہ علم کا حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچنا اور کیا ہوتا ہے؟ یہی تو ہے کہ عملی طور پر ہر ایک گوشہ اس کا آزمایا جاوے۔چنانچہ اسلام میں ایسا ہی ہوا۔جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو سکھا یا ان کو یہ موقع دیا کہ عملی طور پر اس تعلیم کو چمکا ویں اور اس کے نور سے پر ہو جاویں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۶) ایسے لوگوں سے افسوس ہی کیا ہے اگر وہ اپنے سخت الفاظ سے ہمارا دل دُکھاویں تو ہمیں صبر کرنا چاہیئے۔جب تک کہ ہمارا اور اُن کا خدا تعالیٰ فیصلہ کرے اور اسی صبر کے لئے خدا تعالیٰ کے قرآن شریف میں یہ تعلیم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔۔۔البتہ تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤ گے اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت دل آزار باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو گے اور جوش اور اشتعال سے اپنے تیں بچاؤ گے تو یہ بات ہمت کے کاموں سے ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۵)